عالمی یومِ نرسز: خاموش ہیروز، جو صرف دوا نہیں، حوصلہ بھی دیتی ہیں

عالمی یومِ نرسز: خاموش ہیروز، جو صرف دوا نہیں، حوصلہ بھی دیتی ہیں

دنیا میں کچھ پیشے صرف نوکری نہیں ہوتے، وہ انسانیت کی خدمت کا دوسرا نام بن جاتے ہیں۔ نرسنگ بھی انہی عظیم شعبوں میں سے ایک ہے۔

ہر سال 12 مئی کو International Nurses Day منایا جاتا ہے تاکہ اُن لوگوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جا سکے جو اسپتالوں کے خاموش مگر سب سے مضبوط ستون ہوتے ہیں۔

ہم اکثر ڈاکٹرز کے نام جانتے ہیں، لیکن وہ نرس جو پوری رات مریض کے سرہانے کھڑی رہتی ہے، اُس کا نام شاید کسی کو یاد نہیں رہتا۔

ایک مریض کی دوا وقت پر دینا، اس کا بخار چیک کرنا، درد میں اس کا حوصلہ بننا، انجیکشن لگانا، خون صاف کرنا، اور بعض اوقات اُس مریض کو چھونا بھی… جسے اُس کے اپنے رشتہ دار بیماری کے خوف سے ہاتھ لگانے سے ڈرتے ہیں, یہ سب کام نرسز خاموشی سے کرتی ہیں۔

کورونا وبا کے دنوں میں دنیا نے یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا۔

ایسے مریض جن کے گھروں والے قریب آنے سے خوفزدہ تھے، وہاں نرسز نے PPE کٹس میں گھنٹوں اُن کی خدمت کی۔ کئی نرسز اپنے بچوں سے دور رہیں، کئی خود بیمار ہوئیں، اور کئی اپنی جان تک ہار گئیں۔ مگر انہوں نے مریض کا ہاتھ نہیں چھوڑا۔

عالمی یومِ نرسز: خاموش ہیروز، جو صرف دوا نہیں، حوصلہ بھی دیتی ہیں

پاکستان میں نرسز کی صورتحال مزید توجہ مانگتی ہے۔
سرکاری اسپتالوں میں طویل ڈیوٹیاں، کم تنخواہیں، ذہنی دباؤ، مریضوں کا بوجھ، اور بعض اوقات بدتمیزی بھی یہ سب اُن کے روزمرہ کا حصہ ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں آج بھی نرسنگ کے پیشے کو وہ عزت نہیں ملتی جس کی یہ مستحق ہیں۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں نرسز کی کمی ایک سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی، اسپتالوں پر دباؤ اور طویل ڈیوٹی اوقات کے باعث موجودہ نرسز شدید ذہنی اور جسمانی دباؤ کا شکار ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر نرسنگ کے شعبے کو بہتر سہولیات، عزت اور مناسب تنخواہیں نہ دی گئیں تو مستقبل میں صحت کا نظام مزید مشکلات کا سامنا کر سکتا ہے۔

نرسز صرف دوائیں نہیں دیتیں، وہ امید دیتی ہیں۔
وہ مریض کے خوف کو کم کرتی ہیں، تیمارداروں کو تسلی دیتی ہیں، اور کئی مرتبہ ایک اجنبی انسان کے لیے اُس خاندان کا کردار ادا کرتی ہیں جو وہاں موجود نہیں ہوتا۔

فلورنس نائٹنگیل کاکہنا تھا:
“نرسنگ ایک فن ہے، اور اگر اسے فن بنانا ہے تو اس کے لیے دل کی گہرائی سے خدمت کرنا پڑتی ہے۔”

آج کے دن شاید ہمیں صرف “ہیپی نرسز ڈے” کہنے سے آگے بڑھنا ہوگا۔

ہمیں اُن کے لیے بہتر تنخواہوں، محفوظ ماحول، ذہنی صحت کی سہولتوں اور معاشرتی احترام کی بات بھی کرنی ہوگی۔

کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ جب انسان درد میں ہوتا ہے تو اُسے سب سے پہلے کسی دوا سے زیادہ ایک نرم لہجے، ایک پُرسکون ہاتھ اور ایک مہربان چہرے کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ سب اکثر ایک نرس فراہم کرتی ہے۔

اس عالمی یومِ نرسز پر، ہر اُس نرس کو سلام
جو خوف سے نہیں، انسانیت سے مریض کو چھوتی ہے۔

سدرہ عابد لاہور سے تعلق رکھنے والی ایک لکھاری ہیں، جنہوں نے ماس کمیونیکیشن میں ایم فل کیا ہے، وہ سماجی مسائل ، ادب اور طنزیہ مزاحیہ موضوعات پر لکھتی ہیں۔