وسیم اکرم لاہوریا ہے، حسبی نسبی مزنگ کا اوریجنل لاہوریا۔ مگر اب پتا چلا کہ وہ لاہور کی روح کو نہیں سمجھتا۔ لاہور میں خوراک صرف پیٹ بھرنا نہیں ہے۔ یہ ایک مذہب کی طرح ہے۔ کراچی والے کاروبار کرتے ہیں۔ دنیا دار ہیں۔ اچھے کھانے پینے کے شوقین بھی ہیں، اور وہاں دنیا بھر کا کھانا میسر ہے۔ بنگالی، پارسی، مدراسی، سندھی، میمن، دلی والے، لکھنؤ والے، وغیرہ وغیرہ۔ کراچی کا کھانا بھی اپنی جگہ شاندار ہے، اس میں رنگ بھی ہے، ورائٹی بھی ہے، تہذیب بھی ہے، مگر لاہور والی عقیدت شاید وہاں نہیں۔
لاہور میں کھانا پینا ایک الگ مذہب ہے۔ زندگی کا مقصد ہے۔ ساری محنت اسی لیے کی جاتی ہے کہ آج کیا کھایا جائے، کل کیا کھایا جائے، اور چھٹی والے دن کہاں جا کر کھایا جائے۔ لاہور والے جیتے ہی کھانے کے لیے ہیں۔ چاہے باقی لوگ نہ سمجھیں یا لاہور والوں کا مذاق اڑائیں، لاہور والوں کو خواب میں بھی کھانا آتا ہے۔ یہ خواب آتا ہے کہ صبح اٹھوں گا تو پھجے یا حنیفے کے پائے کھاؤں گا، یا فلاں جگہ کی لسی پیوں گا، یا فلاں دکان کے چھولے کھاؤں گا۔ کبھی خواب میں سری پائے آ جاتے ہیں، کبھی نان چنے، کبھی حلوہ پوری، اور کبھی کسی پرانی گلی کے کونے والی دکان یاد آ جاتی ہے۔
کراچی والے بھی اچھا کھانا کھاتے ہیں، مگر وہ اپنے لکھنؤ اور دلی کے بزرگوں کی طرح خواب میں محبوبہ دیکھتے ہوں گے۔ یا پھر روزگار، فیملی اور زندگی کے مسائل بھی ہوتے ہوں گے۔ ان کو اندازہ ہی نہیں ہو سکتا کہ لاہور میں کھانا صرف کھانا نہیں ہوتا۔ یہ سب کچھ ہے۔ تفریح بھی ہے۔ عیاشی بھی ہے۔ محبت بھی ہے۔ ضد بھی ہے۔ ضد کا علاج بھی ہے۔ لاہور میں اچھا کھانا مل جائے تو بندہ تھوڑی دیر کے لیے سیاست، مہنگائی، ٹریفک، بجلی کے بل اور دنیا بھر کی پریشانیاں بھول جاتا ہے۔
کھانا ہی وہ آئٹم ہے جس سے ناراض بیوی راضی کی جاتی ہے، اور کبھی کسی انجان خاتون کو بیوی بنانے کا راستہ بھی کھلتا ہے۔ ناراض دوست منانا ہو، شرط لگانی ہو، جوا ہو یا جرمانہ، خوشی ہو، غمی ہو یا تہوار، لاہور میں کھانا ہی سب کچھ ہے۔ یہاں دعوت صرف دعوت نہیں ہوتی، تعلق کا اعلان ہوتی ہے۔ یہاں چائے صرف چائے نہیں ہوتی، صلح کا بہانہ ہوتی ہے۔ یہاں لسی صرف مشروب نہیں، ایک پورا نظریہ ہے۔ یہاں کسی کو کھانا کھلانا صرف مہمان نوازی نہیں، اپنی محبت، اپنی حیثیت اور اپنا لاہورپن ثابت کرنا ہوتا ہے۔
لاہور کا تھیٹر، فلم، میلے ٹھیلے، سب کچھ تباہ ہو چکے۔ وہ پرانی رونقیں، وہ رات گئے تک آباد بازار، وہ فلمی پوسٹر، وہ سٹیج ڈرامے، وہ میلے اور وہ لاہوری ہلہ گلہ اب پہلے جیسا نہیں رہا۔ اچھا سمجھیں یا برا، بس ایک خوراک کا ہی سہارا رہ گیا ہے۔ کھانا پینا ہی زندگی ہے۔ یہی مذہب ہے۔ یہی جینے کا مقصد ہے۔ لاہور والے اسی میں خوشی ڈھونڈتے ہیں، اسی میں غم بھلاتے ہیں، اور اسی میں زندگی کا ذائقہ تلاش کرتے ہیں۔ ان کے لیے کھانا وقت گزارنے کا ذریعہ نہیں، وقت کو یادگار بنانے کا طریقہ ہے۔
کراچی والے کیا سمجھیں گے بے چارے۔ ان کے مسائل اور بھی ہیں۔ وہاں سمندر ہے، کاروبار ہے، بھاگ دوڑ ہے، ٹریفک ہے، روزگار کی فکر ہے، زندگی کی اپنی رفتار ہے۔ لاہور والے مگر الگ مخلوق ہیں۔ ان کے ہاں سوال یہ نہیں ہوتا کہ زندگی میں کیا کرنا ہے۔ اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ رات کو کھانا کہاں سے ہے۔





