کیا آپ کا کچن اسپنج ٹوائلٹ سیٹ سے بھی زیادہ آلودہ ہو سکتا ہے؟

تحریر: لائبہ شاہد

باورچی خانے میں رکھا ایک چھوٹا سا اسپنج بظاہر صفائی کی معمولی چیز لگتا ہے، مگر ماہرین کے مطابق یہی چیز کئی بار جراثیم کے جمع ہونے کی جگہ بن جاتی ہے۔ روزمرہ برتن دھونے، سنک صاف کرنے اور کچن کی مختلف سطحوں کو پونچھنے کے دوران اسپنج میں نمی، چکنائی اور خوراک کے باریک ذرات جمع ہوتے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سائنس دان اب اسے صرف صفائی کا سامان نہیں، بلکہ احتیاط طلب چیز بھی سمجھتے ہیں۔

کیا کچن کا اسپنج واقعی اتنا گندا ہو سکتا ہے؟

جی ہاں، سائنسی تحقیق یہی بتاتی ہے۔ اٹلی کی یونیورسٹی آف میسینا کے محققین نے استعمال شدہ کچن اسپنجز کا جائزہ لیا تو ان میں بڑی مقدار میں بیکٹیریا پائے گئے۔ ان میں ایسے جراثیم بھی شامل تھے جو خوراک سے پھیلنے والی بیماریوں سے جڑے سمجھے جاتے ہیں۔ اسی طرح جرمنی کی فرٹ وانِسکی انسٹیٹیوٹ فار بایومیڈیکل انجینیئرنگ سے وابستہ محققین کی تحقیق نے بھی یہ توجہ دلائی کہ باورچی خانے کا استعمال شدہ اسپنج جراثیم کے اعتبار سے غیر معمولی حد تک آلودہ ہو سکتا ہے۔

تحقیق کے دوران سامنے آنے والا سب سے حیران کن انکشاف یہ ہے کہ ایک عام استعمال شدہ کچن اسپنج میں جراثیم کی تعداد بسا اوقات باتھ روم کے ٹوائلٹ فلش اور اس کے گرد و نواح کی سطحوں سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ ماہرینِ مائیکرو بایولوجی کے مطابق، ٹوائلٹ سیٹ عموماً خشک رہتی ہے جبکہ اسپنج اپنی نمی اور مسام دار ساخت کی وجہ سے جراثیم کی ‘کثافت’ (Density) کے لحاظ سے گھر کی آلودہ ترین چیز بن جاتا ہے۔ یعنی جس آلے کو ہم صفائی کے لیے سب سے زیادہ قابلِ بھروسا سمجھتے ہیں، وہ مائیکروسکوپ کی آنکھ سے دیکھنے پر باتھ روم سے بھی زیادہ آلودہ ثابت ہو سکتا ہے۔

یہ بات اس لیے اہم ہے کیونکہ ہمارے گھروں میں اسپنج کو عموماً صفائی کی علامت سمجھا جاتا ہے، حالانکہ اگر اسے بار بار اور ہر جگہ ایک ہی طرح استعمال کیا جائے تو یہی چیز الٹا گندگی پھیلانے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔

کیا آپ کا کچن اسپنج ٹوائلٹ سیٹ سے بھی زیادہ آلودہ ہو سکتا ہے؟

اسپنج میں جراثیم اتنی تیزی سے کیوں بڑھتے ہیں؟

اس کی بڑی وجہ خود اسپنج کی ساخت ہے۔ اسپنج میں بے شمار باریک سوراخ ہوتے ہیں، جن میں پانی، چکنائی اور خوراک کے ذرات پھنس جاتے ہیں۔ یہ سوراخ جراثیم کے لیے ایک طرح کی پناہ گاہ بن جاتے ہیں۔ اوپر سے اسپنج زیادہ تر وقت نم یا گیلا رہتا ہے، اور نمی بیکٹیریا کی افزائش کے لیے بہترین ماحول سمجھی جاتی ہے۔

گھریلو زبان میں یوں سمجھ لیجیے کہ اسپنج کے اندر جراثیم کو تین چیزیں ایک ساتھ مل جاتی ہیں:

•نمی، خوراک اور چھپنے کی جگہ۔
•جب یہ تینوں چیزیں موجود ہوں تو جراثیم کا بڑھنا آسان ہو جاتا ہے۔

پاکستانی گھروں میں یہ مسئلہ گرمیوں میں اور بڑھ سکتا ہے، کیونکہ زیادہ درجہ حرارت اور نمی کئی چیزوں کو جلد خراب بھی کرتے ہیں اور جراثیم کی افزائش کے لیے ماحول بھی سازگار بنا دیتے ہیں۔

کیا ہر گندا اسپنج بیماری بھی پھیلاتا ہے؟

ہر گندا اسپنج لازمی نہیں کہ وہ ضرور بیماری پھیلائے گامگر یہ خارج از امکان بھی نہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جسے سمجھنا بہت اہم ہے۔ امریکی ادارہ برائے بیماریوں کے کنٹرول و روک تھام (CDC) اور فوڈ سیفٹی سے متعلق مختلف مطالعات کے مطابق کسی چیز میں جراثیم کا موجود ہونا اور اس سے بیماری کا پھیلنا، یہ دونوں ایک ہی بات نہیں ہیں۔

بیماری اس وقت پیدا ہوتی ہے جب جراثیم کسی نہ کسی طرح کھانے، ہاتھوں، برتنوں یا منہ کے ذریعے جسم میں داخل ہوں، اور پھر جسم کا مدافعتی نظام انہیں روک نہ سکے۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ ہر گندا اسپنج لازماً بیماری پھیلائے گا، لیکن یہ کہنا ضرور درست ہے کہ غلط استعمال کی صورت میں یہ خطرہ بڑھا سکتا ہے۔

یعنی خطرہ موجود ہے، مگر اس کی شدت ہمارے استعمال کے طریقے پر منحصر ہے۔

جراثیم ایک جگہ سے دوسری جگہ کیسے پہنچتے ہیں؟

سی ڈی سی اور یورپی فوڈ سیفٹی کے ماہرین کے مطابق جب جراثیم ایک آلودہ چیز سے دوسری نسبتاً صاف چیز تک منتقل ہو جائیں تو اسے (Cross Contamination) کہا جاتا ہے۔

مثلاً اگر آپ نے کچے گوشت یا مرغی والے برتن صاف کیے، پھر وہی اسپنج سنک، کچن کاؤنٹر، پلیٹوں یا چمچوں پر استعمال کر لیا، تو جراثیم ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ سکتے ہیں۔ بظاہر صفائی ہو رہی ہوتی ہے، مگر دراصل آلودگی پھیل رہی ہوتی ہے۔

پاکستانی گھروں میں یہ مسئلہ اس لیے بھی عام ہو سکتا ہے کہ اکثر جلدی میں ایک ہی اسپنج کئی کاموں کے لیے استعمال ہوتا رہتا ہے۔

کیا آپ کا کچن اسپنج ٹوائلٹ سیٹ سے بھی زیادہ آلودہ ہو سکتا ہے؟

کیا ایک ہی اسپنج ہر کام کے لیے استعمال کرنا درست ہے؟

نہیں، یہی عادت سب سے زیادہ مسئلہ پیدا کر سکتی ہے۔ ہمارے ہاں اکثر ایک ہی اسپنج برتن دھونے، سنک صاف کرنے، چولہا پونچھنے اور کبھی کبھی کچن کاؤنٹر صاف کرنے کے لیے بھی استعمال ہو جاتا ہے۔ بعض گھروں میں تو یہی اسپنج فرج کی شیلف یا دسترخوان کے قریب کی جگہوں تک بھی پہنچ جاتا ہے۔

 

بظاہر یہ آسان اور وقت بچانے والا طریقہ لگتا ہے، لیکن صفائی کے نقطۂ نظر سے یہ درست نہیں۔ اگر ایک ہی اسپنج ہر جگہ استعمال ہوگا تو ایک آلودہ سطح کے جراثیم دوسری صاف سطح تک منتقل ہونے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔

اسی لیے ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ کم از کم مختلف کاموں کے لیے الگ صفائی کا سامان رکھا جائے۔ مثلاً:
• برتنوں کے لیے الگ اسپنج
• سنک کے لیے الگ
• چولہے یا کاؤنٹر کے لیے الگ کپڑا یا صفائی والا پیڈ

یہ چھوٹی سی عادت بہت بڑا فرق ڈال سکتی ہے۔

کن لوگوں کے لیے یہ خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے؟

یہ خطرہ سب کے لیے ایک جیسا نہیں ہوتا۔ گھر میں اگر چھوٹے بچے، بزرگ، حاملہ خواتین یا ایسے افراد ہوں جن کی صحت کمزور ہو یا مدافعتی نظام مضبوط نہ ہو، تو زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے افراد بعض جراثیم کے اثرات سے جلد متاثر ہو سکتے ہیں۔

اسی طرح ان گھروں میں بھی خطرہ نسبتاً زیادہ ہو سکتا ہے جہاں:
• کچا اور پکا کھانا الگ نہ رکھا جاتا ہو۔
• برتن دیر تک پڑے رہتے ہوں۔
• اسپنج بہت دیر تک تبدیل نہ کیا جاتا ہو۔
• صفائی جلدی جلدی اور ایک ہی چیز سے کی جاتی ہے۔
اس کے برعکس اگر گھر میں صفائی کے بنیادی اصولوں کا خیال رکھا جائے تو عام اور صحت مند افراد کے لیے خطرہ کافی حد تک کم رہتا ہے۔

گھر میں اس خطرے کو کم کیسے کیا جا سکتا ہے؟

یہ خطرہ مکمل طور پر ختم کرنا شاید ممکن نہ ہو، لیکن اسے کافی حد تک کم ضرور کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے بہت مہنگے یا مشکل طریقوں کی ضرورت نہیں، بلکہ چند سادہ احتیاطیں کافی ہیں۔

سب سے پہلے، اسپنج کو استعمال کے بعد اچھی طرح نچوڑ کر ایسی جگہ رکھیں جہاں ہوا لگے اور وہ خشک ہو سکے۔ اسے سنک کے اندر یا کسی بند، گیلی جگہ پر نہ چھوڑیں۔

دوسری بات، کچے گوشت، مرغی یا مچھلی کے بعد اسی اسپنج کو فوراً دوسری سطحوں پر استعمال نہ کریں۔

تیسری بات، اگر ممکن ہو تو برتن، سنک اور کچن کی سطحوں کے لیے الگ الگ صفائی کی چیزیں رکھیں۔

چوتھی بات، برتنوں کو صابن اور پانی سے اچھی طرح دھونا خود بھی جراثیم کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

کیا آپ کا کچن اسپنج ٹوائلٹ سیٹ سے بھی زیادہ آلودہ ہو سکتا ہے؟

اسپنج کب بدلنا چاہیے؟

یہ بہت اہم سوال ہے، کیونکہ اکثر گھرانوں میں اسپنج اس وقت تک چلایا جاتا ہے جب تک وہ بالکل خراب نہ ہو جائے۔ حالانکہ اس سے پہلے ہی وہ جراثیم کا گھر بن چکا ہوتا ہے۔

اگر اسپنج:
• بدبو دینے لگے
• رنگ بدل جائے
• چکنائی اپنے اندر جمائے رکھے
• اچھی طرح دھونے کے باوجود صاف محسوس نہ ہو
• زیادہ نرم یا بوسیدہ ہو جائے

تو اسے بدل دینا چاہیے۔

خاص طور پر پاکستانی گرمیوں میں، جب چیزیں جلد نم رہتی ہیں اور بو بھی جلد پیدا ہوتی ہے، اسپنج کو ضرورت سے زیادہ دیر تک استعمال کرنا مناسب نہیں۔

کیا اسپنج کو دھو کر یا گرم کر کے محفوظ بنایا جا سکتا ہے؟

کچھ تحقیقات میں یہ بتایا گیا ہے کہ اسپنج کو گرم پانی یا بعض صورتوں میں حرارت کے ذریعے جزوی طور پر صاف کیا جا سکتا ہے۔ اس سے جراثیم کی تعداد کم ہو سکتی ہے، مگر یہ مکمل حل نہیں ہوتا۔ جراثیم دوبارہ بھی جمع ہو سکتے ہیں، خاص طور پر اگر اسپنج پھر اسی طرح نم اور آلودہ ماحول میں استعمال ہوتا رہے۔

اس لیے صرف دھونے یا گرم کر لینے پر بھروسا کافی نہیں۔ اصل احتیاط یہ ہے کہ اسپنج کو زیادہ دیر تک استعمال نہ کیا جائے، اسے خشک رکھا جائے، اور ضرورت پڑنے پر بروقت بدل دیا جائے۔

روزمرہ کچن میں کون سی چھوٹی احتیاط بڑا فرق ڈال سکتی ہے؟

یہی وہ جگہ ہے جہاں گھریلو خواتین بہت آسانی سے فرق پیدا کر سکتی ہیں۔ چند معمولی احتیاطیں پورے کچن کی صفائی کے معیار کو بہتر بنا سکتی ہیں:
• ایک ہی اسپنج ہر کام کے لیے استعمال نہ کریں
• استعمال کے بعد اسپنج کو اچھی طرح خشک کریں
• کچے گوشت اور پکے کھانے کے برتن الگ رکھیں
• سنک اور کاؤنٹر کے لیے الگ کپڑا یا اسپنج رکھیں
• اسپنج میں بدبو یا بوسیدگی محسوس ہو تو فوراً بدل دیں
• بچوں اور بزرگوں کے کھانے کے برتنوں میں خاص احتیاط کریں

یہ چھوٹی باتیں سننے میں معمولی لگتی ہیں، مگر حقیقت میں یہی عادتیں بیماری کے خطرے کو کم کرتی ہیں۔

اس پورے معاملے میں مقصد خوف پیدا کرنا نہیں، بلکہ آگاہی دینا ہے۔ کچن کا اسپنج بذاتِ خود کوئی خطرناک چیز نہیں، لیکن اگر اسے ہر کام کے لیے، بار بار، گیلی حالت میں اور دیر تک استعمال کیا جائے تو یہی صفائی کی چیز آلودگی پھیلانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

گھریلو خواتین کے لیے اصل بات یہی ہے کہ گھر کی صفائی صرف چمک سے نہیں، طریقے سے بھی جڑی ہوتی ہے۔ اور بہت سی بڑی احتیاطیں دراصل انہی چھوٹی روزمرہ عادتوں سے شروع ہوتی ہیں۔

Laiba Shahid
لائبہ شاہد راولپنڈی سے تعلق رکھنے والی میڈیا اور کمیونیکیشن کی طالبہ ہیں، جو ماحولیاتی تبدیلی، سماجی مسائل اور میڈیا سے متعلق موضوعات پر لکھتی ہیں۔