آبنائے ہرمز بحران میں شدت، مہنگائی کا سخت وار کب ہوگا؟

تحریر: محمد اکمل خان

ذرا ایک لمحے کے لیے سوچیں کہ ایشیا اور یورپ کے بڑے شہروں میں تیل کی سپلائی رک چکی ہے۔ گیس اتنی مہنگی ہو گئی ہے کہ عام گھر کے لیے چولہا جلانا اور کمرہ گرم رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔ مال بردار ٹرک کم چل رہے ہیں، کارخانے پیداوار گھٹا رہے ہیں، اور بسیں و دوسرے ذرائع آمد و رفت بھی عملی طور پر ٹھپ ہو گئے ہیں۔ تب یہی گمان ہو گا کہ جیسے مشینوں، ایندھن اور رفتار پر کھڑی جدید دنیا کو انسان نے خود اپنے ہاتھوں سے دو صدیاں پیچھے دھکیل دیا ہو۔

یہ کوئی خیالی منظر نہیں، بلکہ ایک ممکنہ انجام ہے جس کی طرف پوری دنیا کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر جارحانہ حملوں نے دھکیل دیا ہے۔ آبنائے ہرمز سے 2024 میں اوسطاً 20 ملین بیرل یومیہ تیل گزرتا رہا، جبکہ عالمی ایل این جی تجارت کا لگ بھگ 20 فیصد بھی اسی راستے سے سپلائی ہوا۔ اس لیے جب ایسی گزرگاہ خوف، رکاوٹ اور جنگی دباؤ کی زد میں آتی ہے تو مسئلہ صرف سمندری بندش کا نہیں رہتا، بلکہ پوری عالمی زندگی کی رفتار سوال بن جاتی ہے۔

خوش قسمتی سے دنیا کوابھی اس حد تک خراب صورت حال کا سامنا نہیں ، اور نہ ہی عالمی معیشت اتنی مفلوج ہوئی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ کچھ تیل بردار جہاز حالیہ جنگ کے آغاز سے پہلے ہی سفر میں تھے، کچھ تیل اور گیس محفوظ ذخیرہ گاہوں میں موجود تھی، اور کچھ حکومتیں ہنگامی ذخائر بازار میں لا کر وقتی مہلت حاصل کر چکی تھیں۔ اسی لیے 11 مارچ 2026 کو بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے 32 رکن ممالک نے 400 ملین بیرل ہنگامی ذخائر بازار میں لانے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ فیصلہ خود واضح کرتا ہے کہ خطرہ فرضی نہیں بلکہ حقیقی ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز اتنی اہم ہے تو عام آدمی نے ابھی تک معاشی جھٹکا پوری شدت سے کیوں محسوس نہیں کیا؟ اور کیا یہ دباؤ اپریل کے وسط تک زیادہ واضح اور زیادہ سخت شکل اختیار کر سکتا ہے؟  اس کا جواب سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ خلیجی ممالک سے تیل اور گیس کی ترسیل کا نظام کیسے چلتا ہے، آبنائے ہرمز کا جغرافیہ کتنا حساس ہے، اور سپلائی چین میں پیدا ہونے والی رکاوٹ چند دن بعد عام آدمی کی جیب تک کس طرح پہنچتی ہے۔

آبنائے ہرمز بحران میں شدت، مہنگائی کا اگلا وار کب ہوگا؟

تیل اور گیس کی ترسیل کا نظام کیا ہے؟

لوگ عموماً خیال کرتے ہیں کہ تیل نکلا، جہاز میں بھرا، اور سیدھا پٹرول پمپ تک پہنچ گیا۔ حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ پہلے تیل یا گیس کی پیداوار ہوتی ہے، پھر پراسیسنگ، پھر اسے برآمدی ٹرمینل تک پہنچایا جاتا ہے، وہاں سے بحری جہازوں میں لوڈ کیا جاتا ہے، پھر سمندری سفر ہوتا ہے، اس کے بعد بندرگاہ، ریفائنری یا گیس وصولی مرکز آتا ہے، پھر تھوک تقسیم ہوتی ہے، اور آخر میں یہی ایندھن پٹرول پمپ، بجلی گھر، فیکٹری اور گھر تک پہنچتا ہے۔ اس پوری سپلائی چین کے کسی ایک حصے میں رکاوٹ بھی پورے ترسیلی نظام کو متاثر کر دیتی ہے۔

یہاں ایک بنیادی غلط فہمی بھی دور کرنا ضروری ہے۔ متبادل راستے صرف اسی وقت کام آتے ہیں جب سپلائی موجود ہو۔ موجودہ بحران میں مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ہرمز سے گزرنا مشکل ہو گیا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ حملوں، خوف اور برآمدی رکاوٹوں نے خود خلیجی پیداوار اور پراسیسنگ کے نظام کو دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ خطے میں 3 ملین بیرل یومیہ سے زیادہ ریفائننگ صلاحیت پہلے ہی بند ہو چکی تھی، اور آبنائے ہرمز سے تیل اور گیس کی سپلائی بھی قریباً رک چکی تھی۔ یعنی مسئلہ صرف راستہ بدلنے کا نہیں، یہ بھی ہے کہ بھیجنے کے لیے مال کتنا بچا ہے۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے پاس کچھ پائپ لائنیں ضرور ہیں جو آبنائے ہرمز کو جزوی طور پر بائی پاس کر سکتی ہیں، مگر ان کی گنجائش صرف 3.5 سے 5.5 ملین بیرل یومیہ کے درمیان ہے، جبکہ  آبنائے ہرمز سے عام حالات میں قریب 20 ملین بیرل یومیہ تیل گزرتا ہے۔ اسی لیے یہ متبادل راستے اہم ہونے کے باوجود ہرمز کا پورا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ بحران کو صرف سمندری گزرگاہ کے مسئلے کے طور پر نہیں، بلکہ سپلائی، پراسیسنگ اور برآمد تینوں کے مسئلے کے طور پر سمجھنا چاہیے۔

ایران کے لئے آبنائے ہرمز  بند کرنا  کتنا مشکل ہے ؟اس سمندری گزرگاہ کی  بندش پوری سپلائی چین کو کیسے متاثر کرتی ہے؟

امریکی اور اسرائیلی حملوں کے ردعمل میں ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول سخت کرنا شروع کر دیا ہے، اور اسی کے بعد اس گزرگاہ کی اصل کمزوری زیادہ کھل کر سامنے آئی ہے۔ آبنائے ہرمز اپنی تنگ ترین جگہ پر صرف 29 ناٹیکل میل، یعنی قریب 54 کلومیٹر چوڑی ہے، مگر اصل جہاز رانی پوری چوڑائی میں نہیں ہوتی۔

بڑے جہاز ایک منظم بحری راستے سے گزرتے ہیں جس میں خلیج فارس میں آنے والوں کے لیے قریب 2 میل چوڑی ایک لین ہے اور خلیج سے باہر جانے والوں کے لیے 2 میل کی دوسری لین ہے، جبکہ دونوں کے درمیان قریب 2 میل کا بفر زون ہے۔ یعنی دنیا کی توانائی کی ایک بڑی مقدار حقیقت میں چند میل کے ایسے راستے سے گزرتی ہے جہاں کسی بھی رکاوٹ یا خطرے کا اثر فوراً پورے بہاؤ پر پڑ سکتا ہے۔

اس صورت حال میں مسئلہ صرف حملے کا نہیں، جہاز کی جسامت کا بھی ہے۔ بڑے آئل ٹینکر چھوٹی کشتی کی طرح نہ فوراً مڑ سکتے ہیں، نہ اچانک رک سکتے ہیں۔ اسی لیے اگر 2 میل چوڑی لین میں آگے سمندری بارودی سرنگوں کا شبہ ہو، ڈرون حملے کا خطرہ ہو، یا کوئی جہاز خراب ہو کر یا تباہ ہو کر راستہ تنگ کر دے، تو پیچھے آنے والے ٹینکر بھی اسی محدود راستے میں پھنس جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی ایک بڑے جہاز کی تاخیر بھی معمولی بات نہیں رہتی۔

ایران نے دباؤ کے لیے یہی مقام کیوں چنا؟

اس تنگ گزرگاہ کے قریب ایران کے قشم اور لارک جیسے جزائر خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ قشم صرف ایک جزیرہ نہیں بلکہ رسد، نگرانی اور عقبی اڈے کا کردار بھی ادا کرتا ہے، جبکہ لارک اتنا قریب ہے کہ وہاں سے جہازوں کی نقل و حرکت دیکھی بھی جا سکتی ہے اور اس پر دباؤ بھی ڈالا جا سکتا ہے۔ ایران کے ساحلی علاقے اور یہی جزائر مل کر آبنائے ہرمز کو ایک ایسے مقام میں بدل دیتے ہیں جہاں ڈرون، میزائل، نگرانی اور سمندری بارودی سرنگوں کا خطرہ ایک ساتھ موجود رہتا ہے۔

امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایران نے اسی مقام پر دباؤ ڈالنےکافیصلہ کیا جہاں سے سب سے زیادہ اثر پیدا کیا جا سکتا تھا۔ کیونکہ اگر اس تنگ راستے میں صرف چند جہاز بھی سست پڑ جائیں، رک جائیں یا انتظار پر مجبور ہو جائیں تو مسئلہ صرف سمندر میں نہیں رہتا۔ اس کے بعد انشورنس مہنگی ہوتی ہے، جہاز مالکان سفر مؤخر کرتے ہیں، بندرگاہی شیڈول بگڑتے ہیں، اور نئی سپلائی کی رفتار کم ہو جاتی ہے۔ یعنی ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹ چند دن بعد بازار میں قیمت، تاخیر اور قلت کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔

اپریل کے وسط میں معاشی دباؤ کیوں بڑھ سکتا ہے؟

ایک وی ایل سی سی، یعنی بہت بڑا خام تیل بردار جہاز، عموماً قریب 2 ملین بیرل تک خام تیل لے جا سکتا ہے۔ بڑے ٹینکر عموماً 14 سے 17 ناٹ کے درمیان چلتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ سے جاپان تک خام تیل کے ایک بڑے جہاز کا سفر تقریباً 6,600 ناٹیکل میل اور لگ بھگ 19 سے 20 دن بنتا ہے، جبکہ راس تنورہ سے روٹرڈیم تک فاصلہ بھی قریب 6,500 ناٹیکل میل سے کچھ اوپر ہے۔ اس لیے ہرمز میں مارچ کے شروع میں پیدا ہونے والی رکاوٹ کا پورا اثر ایشیا اور یورپ میں فوراً نہیں بلکہ واضح طور پر اپریل کے وسط تک سامنے آنے کا امکان ہے۔

مارچ کے ابتدائی دنوں میں جو تیل بردار جہاز آبنائے ہرمز سے نکل گئے تھے، وہ دو سے تین ہفتوں میں اپنی منزلوں تک پہنچتے رہے۔ اسی دوران بعض ملکوں نے بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے فیصلے کے تحت 400 ملین بیرل ہنگامی ذخائر بھی بازار میں لا کر وقتی مہلت حاصل کی۔ مگر یہ سہارا زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا، کیونکہ دو سے تین ہفتے گزرنے کے بعد وہ کارگو بھی منڈی میں شامل ہو چکے ہوتے ہیں جو بحران سے پہلے روانہ ہوئے تھے، جبکہ نئی سپلائی ابھی تک پوری رفتار سے بحال نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ اپریل کے وسط سے قیمتوں اور رسد کا دباؤ زیادہ واضح ہونا شروع ہو سکتا ہے، خاص طور پر ان ملکوں میں جہاں ذخائر محدود ہیں، مالی گنجائش کم ہے، اور مہنگی درآمد کو زیادہ دیر تک سنبھالنا پہلے ہی مشکل ہے۔

پاکستان اس نقشے میں نسبتاً قریب ضرور ہے، مگر اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ اس کی بحران سے نمٹنے کی صلاحیت معاشی مسائل کی وجہ سے محدود ہے۔ خلیج سے کارگو چند دن میں پاکستان پہنچ سکتے ہیں، لیکن اگر سپلائی میں رکاوٹ آ جائے تو مسئلہ صرف سفر کے دورانیے کا نہیں رہتا۔ اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ ملک کے پاس محفوظ ذخائر کتنے ہیں، وہ کتنے دن چل سکتے ہیں، اور مہنگی درآمد جاری رکھنے کی مالی صلاحیت کتنی ہے۔ اوپر سے اگر ذخیرہ کرنے کی گنجائش محدود ہو، معیشت پہلے ہی دباؤ میں ہو، اور درآمدی بل بڑھ رہا ہو، تو پھر ہرمز کا بحران پاکستان جیسے ملک کے لیے صرف قیمت کا نہیں، رسد سنبھالنے اور ذخائر قائم رکھنے کی صلاحیت کا بھی مسئلہ بن جاتا ہے۔

سویز کنال کی عارضی بندش نے کیا سبق دیا تھا؟

سمندری گزرگاہ کی بندش اور اس کے معاشی اثرات کو سمجھنے کے لیے 2021 کی سویز کنال بندش یاد رکھنی چاہیے۔ وہاں کوئی طویل جنگ نہیں تھی، نہ تیل پیدا کرنے والے بڑے ملکوں کی تنصیبات مسلسل نشانہ بن رہی تھیں۔ صرف ایک جہاز، ایور گیون، چند دن کے لیے راستہ روک کر کھڑا ہو گیا تھا۔ مگر اس مختصر حادثے نے بھی یورپ اور ایشیا کے درمیان تجارت میں تاخیر پیدا کی، بندرگاہوں پر دباؤ بڑھایا، اور سپلائی چین کو جھٹکا دیا۔

معاشی اعداد و شمار سے واضح ہے کہ معمولی رکاوٹ بھی کتنی مہنگی پڑ سکتی ہے۔ جرمن انشورنس کمپنی الیانز کے اندازے کے مطابق 2021 میں سویز کی چھ دن کی بندش کا مجموعی نقصان 60 ارب ڈالر تک ہوا، جبکہ اقوام متحدہ کے اداروں کے 2024 کے جائزے میں کہا گیا کہ اس بندش کے دوران روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 10 ارب ڈالر کا مال پھنس گیا یا تاخیر کا شکار ہوا۔ اگر ایک حادثاتی اور عارضی رکاوٹ دنیا کو اربوں ڈالر کا جھٹکا دے سکتی تھی، تو ہرمز جیسی گزرگاہ میں جنگی دباؤ کا اثر زیادہ گہرا اور زیادہ دیرپا ہونا فطری ہے۔

کیا اس سال سردیوں میں یورپ کو گیس کی قلت کا سامنا ہوگا؟

یورپ کی اصل کمزوری تیل سے زیادہ گیس ہے۔ یورپی یونین کے قواعد کے تحت رکن ملکوں کو ہر سال 1 نومبر تک اپنے گیس ذخائر 90 فیصد تک بھرنے ہوتے ہیں، اور اس کے لیے ذخیرہ کرنے کا عمل عموماً اپریل سے شروع ہو کر گرمیوں اور خزاں میں جاری رہتا ہے۔

اسی لیے 23 مارچ 2026 کو یورپی کمیشن نے رکن ملکوں سے کہا کہ وہ اگلی سردیوں کی تیاری فوری اور منظم انداز میں شروع کریں، کیونکہ مشرق وسطیٰ کے تنازع نے گیس کی منڈی کو غیر یقینی میں ڈال دیا ہے۔ 26 مارچ کو کمیشن اور رکن ممالک نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ذخائر پچھلے پانچ برس کی اوسط سے نیچے ہیں، اس لیے جلد گیس ذخیرہ کرنا ضروری ہے۔ یعنی مسئلہ صرف آج کی قیمت کا نہیں، بلکہ اس کا بھی ہے کہ یورپ اگلی سردیوں کے لیے اپنے ذخائر کب، کتنی مہنگی گیس سے، اور کتنی آسانی سے بھر پائے گا۔

روس، یوکرین جنگ نے یہ مسئلہ پہلے ہی مہنگا اور پیچیدہ بنا رکھا ہے۔ یورپ نے روسی گیس پر انحصار کم کر کے زیادہ زور ایل این جی اور متبادل سپلائی پر رکھا۔ گو یورپ اپنی پوری گیس خلیجی ممالک سے نہیں لیتا، مگر قطر اس کے لیے ایک اہم ایل این جی سپلائر رہا ہے۔ اگر آبنائے ہرمز جکڑی رہی، قطر اور خلیج سے ایل این جی کی روانی بحال نہ ہو سکی، اور یورپ کو اسی دوران اپنے ذخائر بھی بھرنے پڑے، تو اسے ایک ہی وقت میں دو دباؤ برداشت کرنا ہوں گے: آج مہنگی گیس خریدنا، اور کل کی سردیوں کے لیے ذخیرہ بھی کرنا۔ اسی لیے بظاہر اس پورے تنازع کا سب سے بڑا نقصان خلیجی ممالک کے بعد یورپ کو اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

کیا امریکہ توانائی کو سیاسی ہتھیار بنا رہا ہے؟

یہ سوال اس لیے پیدا ہوا ہے کہ 31 مارچ کو ٹرمپ نے یورپی ملکوں، خاص طور پر برطانیہ اور فرانس، کو کہا کہ وہ امریکی تیل خریدیں یا ”اپنا تیل خود حاصل کریں“۔ اس کے دو دن بعد خبر آئی کہ انہوں نے کہا امریکا کے پاس یورپ کے لیے کافی جیٹ فیول ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ صرف جنگی بیان بازی ہے، یا اس کے پیچھے یہ منطق بھی ہے کہ یورپ کو ایک بار پھر امریکی توانائی، امریکی تحفظ اور امریکی فیصلوں کے زیر اثر لانے کے لیے بلیک میل کیا جا سکے؟

اگر اس تنازع کے دوران واشنگٹن اپنی سپلائی کو ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے، تو یورپ کی توانائی کے حوالے سے خودمختاری پر سوالیہ نشان کھڑے ہو جائیں گے۔ اسی لیے غالب امکان ہے کہ اس تنازع کا فوری بوجھ ایشیا تو اٹھائے گا ہی، مگر بظاہر سب سے بڑی ہار یورپ کی ہو گی۔

چین، توانائی کی اس رکاوٹ کو کتنی دیر برداشت کر سکتا ہے؟

چین اس بحران میں اس لیے نسبتاً مضبوط دکھائی دیتا ہے کہ اس کے پاس بڑے سرکاری اور تجارتی تیل ذخائر موجود ہیں۔ محتاط تخمینے کے مطابق چین کے پاس قریب 900 ملین بیرل کے ذخائر ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز سے آنے والی اس کی سپلائی کے مقابلے میں یہ دباؤ وہ تقریباً 7 ماہ تک کسی نہ کسی حد تک برداشت کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ چین نے کئی برس سے اپنی توانائی کی مقامی پیداوار، پائپ لائن گیس اور طویل مدتی درآمدی معاہدوں کا دائرہ بھی بڑھایا ہے، اس لیے وہ فوری معاشی جھٹکا برداشت کرنے کی بہتر صلاحیت رکھتا ہے۔ مگر یہ مہلت مستقل حل نہیں۔

چین دنیا کی بڑی صنعتی ورکشاپ ہے۔ اگر وہاں مشینری، الیکٹرانکس، کیمیکل، پلاسٹک، ٹیکسٹائل اور درمیانی صنعتی سامان کی پیداوار متاثر ہوتی ہے تو اس کے جھٹکے یورپی اور ایشیائی منڈیوں کے ساتھ ساتھ امریکہ تک بھی جائیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بہت سی عالمی سپلائی چینیں چینی کارخانوں، چینی پرزوں اور چینی درمیانی مصنوعات پر کھڑی ہیں۔

اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم او ای سی ڈی نے بھی خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تنازع سے بڑھتی توانائی قیمتیں اور سپلائی چین کے خطرات کاروباری لاگت بڑھائیں گے، طلب کم کریں گے اور عالمی نمو کو دبائیں گے۔ سادہ لفظوں میں، چین چند ماہ تک اس تنازع کی وجہ سے معاشی دباؤ برداشت کر سکتا ہے، مگر اگر چینی صنعت واقعی رکنے لگے تو اس کا مطلب صرف ایک ملک کی معاشی سست روی نہیں ہوگا، بلکہ پوری دنیا میں مہنگائی، قلت اور پیداوار کا بڑا دباؤ پیدا ہو جائے گا۔

اس معاشی جھٹکے کی اصل قیمت کون چکائے گا؟

امریکہ اور اسرائیل کے حالیہ جارحانہ حملوں نے ایک ایسے خطے کو جنگ میں دھکیل دیا ہے جہاں سے دنیا کی توانائی کی بڑی سپلائی گزرتی ہے۔ اسی لیے مارچ میں شروع ہونے والی جنگ کا اثر اپریل کے وسط سے ایشیا اور یورپ کے عام صارف تک زیادہ واضح پہنچنا شروع ہو سکتا ہے، جبکہ یورپ، جو پہلے ہی روس۔یوکرین جنگ کے بعد گیس کے نئے اور مہنگے نظام پر چل رہا ہے، اس بحران کا زیادہ بھاری وار اگلی سردیوں میں برداشت کرے گا۔

عام آدمی کے لیے آخری اور سب سے سادہ بات یہ ہے کہ جنگ اگر دور بھی ہو، اس کی قیمت دور نہیں رہتی۔ پہلے سمندر میں راستہ بند یا محدود ہوتا ہے، پھر جہاز رکتے ہیں، پھر تیل اور گیس مہنگے ہوتے ہیں، اور اس کے بعد بجلی، ٹرانسپورٹ، کھاد اور خوراک کی لاگت اوپر جاتی ہے۔ اصل سوال اب یہ نہیں کہ یہ دباؤ کب شدت پکڑے گا، بلکہ یہ ہے کہ یہ کتنی دیر چلے گا، اور انسان اپنی تیز رفتار زندگی کو کتنی دیر تک ڈانواں ڈول معیشت کے ساتھ چلا پائے گا۔ اگر آبنائے ہرمز کا بحران طول پکڑ گیا تو پھر وہ ابتدائی منظر، جسے آج ہم محض ایک خدشہ سمجھ رہے ہیں، کل جدید دنیا کی نئی حقیقت بھی بن سکتا ہے۔

محمد اکمل خان اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ایک ڈاکومینٹری فلم پروڈیوسر ہیں، جو ماحولیاتی تبدیلی، علاقائی تنازعات، دہشت گردی، توانائی، سماجی مسائل اور سیاحت کے موضوعات پر لکھتے ہیں۔