ایران جنگ کا امریکی بیانیہ، کیا مقامی صحافی اور انفلوئنسر استعمال ہو رہے ہیں؟
تحریر: محمد اکمل خان
امریکہ اور اسرائیل کی حالیہ ایران مخالف جنگ کی ابتدا سے اب تک واشنگٹن کا مسئلہ صرف یہ نہیں ہے کہ ایران میدان جنگ میں کیا کر رہا ہے۔ بڑا مسئلہ یہ ہے کہ دنیا اس جنگ کو کس نگاہ سے دیکھ رہی ہے، اور امریکا اس تاثر کو بدلنے میں کیوں ناکام ہو رہا ہے کہ اسے اس پورے بحران میں ایک جارح فریق کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اسی تاثر کو بہتر بنانے کے لیے امریکا نے دنیا بھر میں اپنے سفارت خانوں اور قونصل خانوں کو ہدایت دی کہ وہ سوشل میڈیا، خصوصاً ایکس، پر زیادہ منظم معلوماتی مہم چلائیں، مقامی آوازوں، یعنی صحافیوں اور انفلوئنسرز، کو سامنے لائیں، اور امریکی مؤقف کو مقامی زبان اور مقامی چہروں کے ذریعے زیادہ زور سے پھیلانے کی کوشش کریں۔ یعنی مسئلہ صرف عسکری محاذ تک محدود نہیں رہا ، بلکہ ذہن سازی، رائے عامہ اور سیاسی تاثر کا بھی بن چکا ہے۔
مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا سفارت خانوں کو کیبل بھیج دینے، مقامی آوازوں کو متحرک کر لینے، اور پراپیگنڈا مہم تیز کر دینے سے امریکا بیانیے کی جنگ جیت لے گا؟
اس سوال کا سیدھا جواب، اس سے بات نہیں بنے گی۔ وجہ یہ ہے کہ بیانیہ محض تشہیر یا تضحیک سے نہیں بنتا، ساکھ سے بنتا ہے۔ جب ایک ریاست اپنی شروع کی ہوئی جنگ کا واضح اور یکساں مطلب خود نہ سمجھا سکے تو وہ کاغذی دفاع تو تیار کر سکتی ہے، مگر عوامی رائے تبدیل نہیں کر سکتی۔
بیانیہ ہوتاکیا ہے؟ پراپیگنڈہ اور بیانیہ میں کیا فرق ہے؟
بیانیہ کسی واقعے، تنازع یا مسئلے کے حوالے سے بننے والی وہ بڑی کہانی ہوتی ہے جس کے ذریعے لوگوں کو یہ سمجھایا جاتا ہے کہ کیا ہوا، کیوں ہوا، اصل مسئلہ کیا ہے، قصور وار کون ہے، اور ہمدردی کس کے ساتھ ہونی چاہیے۔ یعنی بیانیہ صرف خبر نہیں ہوتا، بلکہ خبر کو سمجھنے کا زاویہ بھی دیتا ہے۔ واقعات، یادداشتوں، جذبات، مثالوں، علامتوں اور چنے گئے حقائق کو جوڑ کر ایک ایسا فکری سانچہ بنایا جاتا ہے جس کے ذریعے لوگ کسی خاص مسئلے یا تنازع کو دیکھتے اور سمجھتے ہیں۔ اسی لیے بیانیہ صرف اطلاع نہیں دیتا، بلکہ رائے بناتا ہے، سوچ کو سمت دیتا ہے، اور سیاست، جنگ، مذہب، قومیت اور میڈیا میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
پراپیگنڈہ اور بیانیہ میں فرق یہ ہے کہ ہر پراپیگنڈہ ایک بیانیے کا حصہ ہو سکتا ہے، مگر ہر بیانیہ پراپیگنڈہ نہیں ہوتا۔ بیانیہ نسبتاً وسیع چیز ہے۔ اس میں سچ، تجربہ، تاریخ، احساسات اور نقطہ نظر سب شامل ہو سکتے ہیں۔ اس کے برعکس پراپیگنڈہ ایک خاص مقصد کے لیے رائے پر اثر ڈالنے کی منظم کوشش ہوتی ہے، جس میں اکثر حقائق کو چن کر، توڑ کر، بڑھا چڑھا کر، یا چھپا کر پیش کیا جاتا ہے تاکہ لوگ ایک خاص سمت میں سوچیں۔ آسان لفظوں میں، بیانیہ سمجھانے کی کوشش کرتا ہے، جبکہ پراپیگنڈہ منوانے کی کوشش کرتا ہے۔
جبر کے بیانیے کو کیسے پہچانا جا سکتا ہے؟
جبر کے بیانیے کی خاصیت یہ ہوتی ہے کہ وہ طاقت کے استعمال کو جائز، ضروری اور اخلاقی بنا کر پیش کرتا ہے۔ اس بیانیے کے ذریعے زیادہ تر جارحیت کو دفاع، امن، استحکام یا سلامتی کے نام پر بیان کیا جاتا ہے، جب کہ اصل مقاصد، نقصان اور ذمہ داری کو پس منظر میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ ایسا بیانیہ حقیقت کو سادہ اور یک رخا بناتا ہے، اپنے حق کے شواہد چنتا ہے، مخالف کی غلطیوں کو بڑھا کر دکھاتا ہے، اور ماضی کے اکا دکا واقعات کو اتنا ابھارتا ہے کہ حال کے حقائق اور مستقبل کے خطرات نظروں سے اوجھل ہو جائیں۔
اسی لیے جبر کے بیانیے کی کمزوری یہ ہوتی ہے کہ وہ پوری تصویر نہیں دکھاتا۔ وہ سچ کا ایک حصہ تو سامنے رکھتا ہے، مگر باقی حصے کو دھندلا دیتا ہے۔ اگر اسی پیمانے پر موجودہ جنگ میں امریکی مؤقف کو دیکھا جائے تو اگلا سوال یہی بنتا ہے کہ امریکا کی مشکل اصل میں ایران کا پیغام ہے یا اپنی ہی الجھی ہوئی کہانی۔
امریکہ بیانیے کی جنگ کیوں ہار رہا ہے؟
اگر کسی جنگ کے بارے میں بنیادی سوال یہ ہو کہ حملہ کیوں کیا گیا، تو جواب میں یکسانیت ہونی چاہیے، نہ کہ بیانیہ تضادات کا مجموعہ دکھائی دے۔ مگر ایران جنگ کے حوالے سے امریکی صدر اور اعلیٰ حکام کے بیانات ایک دوسرے سے متصادم دکھائی دیتے ہیں۔ کبھی ایرانی عوام کو اپنی حکومت کے خلاف اٹھنے کا اشارہ دیا گیا، کبھی جنگ کو محدود فوجی اہداف تک محدود بتایا گیا، کبھی غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کی بات ہوئی، کبھی مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا گیا، اور کبھی آبنائے ہرمز، توانائی ڈھانچے، جوہری مواد پر قبضہ کرنا اور حکومت کی تبدیلی جیسے مقاصد ایک ساتھ سامنے آتے رہے۔
جب جنگ کا جواز، مقصد اور انجام بار بار بدلیں تو عام آدمی اسے اصولی کارروائی کے بجائے جارحیت سمجھنے لگتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو امریکی بیانیے کو کمزور بناتا ہے۔
امریکی بیانیے کو کمزور کرنے والا ایک اور اہم عنصر ٹرمپ کا وہ غرور بھی تھا جس میں اس نے یہ سمجھ لیا کہ امریکا اپنی فوجی طاقت کے بل پر اکیلا ہی ایران کو شکست دے سکتا ہے اور خطے میں اپنی بالا دستی قائم کر سکتا ہے۔نیتن یاہو نے ٹرمپ کے اس رویے کو بڑھاوا دینے میں اہم کردار ادا کیا تا کہ کسی لمحے ٹرمپ اس جنگ سے پیچھے نا ہٹ سکے۔
اس جنگ میں یہ تاثر بار بار ابھرا کہ ٹرمپ نے نہ اپنی کانگریس کو سنجیدگی سے اعتماد میں لیا، نہ یورپی اتحادیوں کے ساتھ اس حوالے سے بامعنی مشاورت کی، نہ اقوام متحدہ کو کسی مؤثر سفارتی عمل کا حصہ بنایا، بلکہ اس حملے کو جواز دینے کی بجائے ایسے آگے بڑھا یا کہ جیسے دنیا کی رائے، بین الاقوامی قانون اور اجتماعی سفارت کاری کی کوئی خاص اہمیت ہی نہیں۔
یہی خود پرستی امریکی مؤقف کو مزید ناقابلِ قبول بناتی ہے، کیونکہ جب ایک طاقت ور ریاست یہ تاثر دے کہ اسے نہ عالمی اداروں کی ضرورت ہے، نہ اتحادیوں کی رائے کی، اور نہ قانونی جواز کی، بلکہ وہ صرف اپنی فوجی برتری کے زعم میں کسی ملک کو ملیا میٹ کر سکتی ہے، تو اس کا بیانیہ دفاع یا امن کے بجائے جبر، تکبر اور جارحانہ بالادستی کی علامت بن جاتا ہے۔ یوں امریکی بیانیہ صرف متضاد باتوں کی وجہ سے نہیں بلکہ طاقت کے اسی غرور کی وجہ سے بھی عوامی سطح پر قابلِ نفرت بنتا گیا۔
امریکا کو اس جنگ میں پہلا بڑا سیاسی نقصان بھی یہی ہوا کہ گزشتہ سال اور حالیہ حملہ امریکا اور اسرائیل نے شروع کیا۔ بین الاقوامی سیاست میں پہلا حملہ صرف فوجی کارروائی نہیں ہوتا، وہ اخلاقی فریم بھی طے کرتا ہے کہ کون جارح ہے اور کون دفاع کر رہا ہے۔ جب دنیا ایک بار اس فریم میں کسی جنگ کو دیکھنے لگے تو بعد میں اس تاثر کو بدلنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔
کیا مناب کے اسکول پر حملے نے امریکی اخلاقی دعویٰ کمزور کر دیا؟
ہر جنگی بیانیے میں اخلاقی برتری ایک بنیادی چیز ہوتی ہے۔ 28 فروری کی صبح ایرانی شہر مناب کے شجرہ طیبہ اسکول پر حملے میں 165 سے زائد بچیوں کی ہلاکت نے اس جنگ کو صرف عسکری بحث سے نکال کر اخلاقی بحث میں دھکیل دیا۔ جب ایک اسکول، کم عمر بچیاں، اور ان کے بعد آنے والی متضاد وضاحتیں ایک ساتھ سامنے آئیں تو ”سرجیکل“اور” محدود کارروائی “ کا دعویٰ کمزور پڑ جاتا ہے۔
عام لوگ پہلے یہ نہیں دیکھتے کہ کون سا فوجی ہدف نشانہ بنایا گیا تھا، وہ پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ مرنے والے کون تھے۔ جب شہری ہلاکتیں بڑھیں اور ان کے بارے میں سرکاری وضاحتیں بدلتی رہیں تو امریکی بیانیہ اور بھی کمزور ہو گیا۔ یہی وہ مقام تھا جہاں ایران کا ”حق دفاع“،”بیرونی جارحیت“اور ”شہری ہلاکتوں“والا فریم زیادہ پراثر لگنے لگا۔ چنانچہ اگلا سوال خود پیدا ہوتا ہے کہ کیا پراپیگنڈہ یا منظم تشہیری مہم اس اخلاقی کمزوری کو چھپا سکتی ہے۔
مناسب سکول میں شہید ہونے والی بچیوں کے جنازے کے مناظر
کیا پراپیگنڈہ امریکی جارحیت کو جائز ثابت کر سکتا ہے؟
واشنگٹن کی بظاہر نئی حکمت عملی یہ ہے کہ امریکی مؤقف کو زیادہ منظم، زیادہ مقامی اور زیادہ قابلِ قبول بنایا جائے۔ مقامی انفلوئنسرز، صحافیوں، ماہرین اور کمیونٹی لیڈروں کو ساتھ ملا کر یہ تاثر پیدا کیا جائے کہ امریکی مؤقف باہر سے مسلط شدہ نہیں بلکہ مقامی سماج کے اندر سے ابھرنے والی فکر ہے۔ مگر یہاں بنیادی کمزوری یہ ہے کہ مرکزی نکتہ ہی مشکوک، متضاد اور فریب پر مبنی ہو تو بیانیہ جلد ہی ایک منفی پراپیگنڈا کے طور پر دیکھا جانے لگتا ہے۔
امریکا ماضی میں بھی اپنے فوجی مقاصد کے لیے ایسے راستے اختیار کرتا رہا ہے جن میں ظاہر کچھ اور ہوتا تھا اور اصل مقصد کچھ اور۔ امریکی خفیہ اداروں کی جانب سے ”سیو دی چلڈرن“جیسے ادارے اور ڈاکٹر شکیل آفریدی کے ذریعے اسامہ بن لادن کی تلاش میں چلائی گئی ویکسینیشن مہم اس کی نمایاں مثال ہے، جہاں ایک رفاہی اور طبی سرگرمی کو خفیہ معلومات کے حصول کے لیے استعمال کیا گیا۔
اسی طرح رائے عامہ اور ذہن سازی کے میدان میں بھی امریکا نے تعلیمی اداروں، ذرائع ابلاغ، ریڈیو، ٹی وی اور فلموں کو اپنے اثر و رسوخ کے لیے استعمال کیا۔ یعنی ماضی ہو یا حال، مقامی افراد، صحافیوں اور مقامی پلیٹ فارموں کو کئی بار ایسے کاموں کے لیے بروئے کار لایا گیا جن کا ظاہری عنوان کچھ اور تھا، مگر اصل ہدف کچھ اور۔
مگر صرف تشہیر بیانیے کو پھیلا سکتی ہے، اس کے اندرونی تضادات ختم نہیں کر سکتی۔ جب کسی پالیسی یا جنگ کی بنیاد ہی مشکوک ہو تو اس کے حق میں مقامی چہروں، مقامی صحافیوں اور مقامی انفلوئنسرز کو آگے لانے سے الٹا شبہ اور بڑھ سکتا ہے کہ کہیں انہیں بھی ایک بڑے منصوبے کا حصہ تو نہیں بنایا جا رہا۔
یہی وجہ ہے کہ امریکا کے اندر سے بھی ایسی آوازیں اٹھیں جنہوں نے اس جنگ کو غیر ضروری، غیر واضح، اور اسرائیلی ترجیحات کے زیر اثر لڑی جانے والی جنگ قرار دیا۔ ان آوازوں میں بڑے سکالر جیسا کہ جیفری ساکس، میر شائمر اور معروف مبصرین بھی شامل ہیں۔
جب کسی ریاست کے اندر ہی سنجیدہ ناقدین سوال اٹھا رہے ہوں تو باہر کی دنیا کو قائل کرنا اور بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ یہی صورت حال اس تاثر کو بھی مضبوط کرتی ہے کہ امریکی اطلاعاتی مہم محض مؤقف سمجھانے کی کوشش نہیں، بلکہ ایک کمزور اور متنازع جنگ کو قابلِ قبول بنانے کی کوشش ہے۔
ایران مخالف بیانیے میں کون سے سوالات اٹھائے گئے؟
امریکی بیانیے کی کمزوریاں اپنی جگہ، مگر پاکستان اور خطے میں ایران مخالف نظریات ہمیشہ سے موجود رہے ہیں۔ مقامی انفلوئنسرز اور صحافیوں کے سوشل میڈیا پروفائلز سے اٹھائے گئے بنیادی سوالات ایران کے جنگی اقدامات کے گرد گھومتے ہیں۔
ان افراد کے ذریعے اٹھائےگئے مرکزی سوالات میں پوچھا گیا کہ ایران کی جنگ اسرائیل اور امریکی پشت پناہی کے خلاف تھی تو پھر خلیجی ممالک کیوں زیادہ نشانہ بنے؟ توانائی تنصیبات، بندرگاہیں، ہوائی اڈے اور اہم اقتصادی مراکز کو کیوں ٹارگیٹ کیا گیا؟ ایران اپنے حملوں کو امریکی مفادات کے خلاف کارروائی قرار دیتا ہے، مگر عملی طور پر ان حملوں کا دباؤ زیادہ تر عرب اور مسلم ریاستیں برداشت کرتی ہیں۔
اسی کے ساتھ ایران کے ماضی کے علاقائی کردار کو بھی حالیہ جنگ کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ شام میں بشار الاسد حکومت کی حمایت، یمن میں حوثیوں کے ساتھ تعلق، عراق میں اس کا اثر و رسوخ، اور خطے میں پراکسی سیاست کو بطور دلیل پیش کیا گیا ہے۔ اس بیانیے کے حامیوں کے نزدیک مسئلہ صرف حالیہ جنگی ردعمل نہیں بلکہ ایک طویل علاقائی طرزِ عمل ہے۔ مگر اس کے ساتھ ہی دوسرا رخ بھی موجود ہے، جو سوشل میڈیا پر ایران کے حق میں اٹھنے والے سوالات میں سامنے آیا۔
ایران کے حق میں سوشل میڈیا پر کون سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں؟
ایران کے حق میں اٹھنے والے سوالات نے بحث کا رخ بدل دیا۔ سوال یہ اٹھایا گیا کہ کیا قطر، بحرین، کویت، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات واقعی اس جنگ میں سو فیصد غیر جانب دار ہیں؟ جب انہی خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈے، فضائی دفاعی نظام، نگرانی کے ریڈار، لاجسٹک سہولتیں اور جنگی معاونت کا ڈھانچہ موجود تھا تو ایران انہیں محض ہمسایہ ریاستوں کے طور پر کیسے دیکھتا؟ اسی استدلال میں یہ نکتہ بھی شامل ہوا کہ خلیجی خطے کی کئی توانائی تنصیبات اور صنعتی مراکز صرف مقامی اثاثے نہیں تھے بلکہ ان میں امریکی اور مغربی کمپنیوں، جیسے ایگزان، شیل اور برٹش پٹرولیم، کے مفادات بھی جڑے ہوئے تھے۔
اسی لیے ایران نواز حلقے سمجھتے ہیں کہ خلیجی ریاستوں کو مکمل طور پر ”معصوم فریق“بنا کر پیش کرنا ادھوری تصویر دکھانا ہے۔ یہ مؤقف بھی سامنے آیا کہ ایران نے خلیجی ممالک کو یک لخت نشانہ نہیں بنایا بلکہ ان ممالک کو امریکی فوجی تنصیبات کے حوالے سے واضح تنبیہ بھی کی گئی۔ اگر ایران نے خلیجی ممالک کو ہدف بنانا ہی ہوتا تو وہ گزشتہ سال بھی اسی شدت سے ان ممالک کو نشانہ بناتا۔ ایران کے لیے خلیجی ممالک ایک ایسے امریکی جنگی نظام کا حصہ ہیں جس سے امریکی فوجی طاقت ایران پر حملہ آور ہو رہی ہے۔ مگر جب یہ دونوں بیانیے پاکستان کے اندر داخل ہوتے ہیں تو ان کی صورت مزید بدل جاتی ہے۔
کیا بیانیے کی یہ جنگ پاکستان میں فرقہ واریت کو ہوا دے سکتی ہے؟
پاکستان میں آ کر یہ بحث مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ یہاں ایران مخالف پاکستانی انفلوئنسر عموماً کھل کر امریکا یا اسرائیل کی حمایت نہیں کرتے، بلکہ اپنی تنقید ایران کے ماضی کے کردار، شام و یمن میں اس کی پالیسیوں، اور اس کے علاقائی اثر و رسوخ سے جوڑتے ہیں۔ مگر ان کے استدلال میں ایک کمزوری یہ ہوتی ہے کہ وہ حالیہ جنگ کے بنیادی سوال، یعنی پہلے حملے اور امریکی۔اسرائیلی کردار، کو پس منظر میں دھکیل دیتے ہیں۔ اس پس منظر کو بدلنے میں مقامی صحافیوں اور مقامی انفلوئنسرز کا کردار اس لیے اہم ہو جاتا ہے کہ عوام تک روزمرہ کی بحث انہی کے ذریعے پہنچتی ہے۔
دوسری طرف ایران کے حق میں بولنے والے بعض حلقے پاکستانی ریاستی اداروں پر بھی ایسے سوالات اٹھاتے دکھائی دیتے ہیں جن کا جواز بطور پاکستانی شہری کمزور ہو جاتا ہے، خاص طور پر جب معاملہ قومی سلامتی، داخلی نظم اور ریاستی خودمختاری سے جڑا ہو۔ مزید پیچیدگی یہ ہے کہ پاکستان میں ایک مخصوص مذہبی فرقے سے تعلق رکھنے والے بعض افراد کی رائے کو پورے ایرانی ریاستی بیانیے کے طور پر پیش کیا جانے لگتا ہے، حالانکہ ہر مقامی حمایتی آواز لازماً ایرانی حکومت کی رسمی ترجمان نہیں ہوتی۔ چنانچہ یہ بحث جلد ہی خارجہ پالیسی سے زیادہ داخلی سماجی تقسیم کی شکل اختیار کرنے لگتی ہے۔
اس ساری بحث کا سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ خطے کی جنگ ہمارے معاشرے کو تقسیم کرکے فرقہ واریت کو فروغ دے رہی ہے۔ جب ہر خبر کو فوراً شیعہ، سنی یا ”ہمارے“اور” ان کے “جیسی عینک سے دیکھا جائے تو اصل سوال کہیں دب کر رہ جاتا ہے۔ پھر یہ نہیں پوچھا جاتا کہ حملہ کس نے شروع کیا، ہدف کون تھا، جواز کیا تھا، شہری کتنے مارے گئے، اور طاقت کے کھیل میں کس کا کیا مفاد تھا۔ پھر صرف یہ دیکھا جاتا ہے کہ کون سا فریق پہلے سے موجود تعصب کو ہوا دے رہا ہے۔
ایسی فضا بیرونی پراپیگنڈہ کے لیے بہت موزوں ہوتی ہے، کیونکہ وہ پہلے سے موجود تفریق کو اپنے پیغام کے ذریعے بڑھاوا دیتا ہے۔ یوں بیانیہ ہمیں قائل نہیں کرتا بلکہ ہمارے اندر موجود تقسیم کو استعمال کرتا ہے۔ اور یہیں وہ سوال زیادہ اہم ہو جاتا ہے جو پوری بحث کی بنیاد ہے۔
کیاامریکہ بیانیہ ساز اپنے مقصد میں کامیاب ہوں گے؟
جب امریکی پراپیگنڈہ کے زیر اثر توجہ بار بار ایران کے ردعمل، اس کے ماضی، اس کے حمایتیوں، یا اس کے علاقائی کردار پر منتقل ہو جاتی ہے تو اصل جارح کی جارحیت، اس کی کمزور قانونی حیثیت، اور اس کی اخلاقی پوزیشن مرکزِ نگاہ نہیں رہتی۔ یہی امریکی بیانیہ سازوں کی اصل کامیابی ہے۔ وہ اپنی کمزور قانونی اور اخلاقی پوزیشن کا براہِ راست دفاع نہیں کر سکتے، اس لیے بحث کا رخ مقامی افراد، مقامی صحافیوں اور مقامی انفلوئنسرز کو استعمال کرتے ہوئے دوسری طرف موڑنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
مگر عوام عام طور پر پیچیدہ تزویراتی بحث نہیں سنتی۔ وہ سادہ، عام فہم، اور آسان فریم کو اپنے موجودہ حالات، غزہ کے پس منظر، امریکی طاقت کے تاثر، اور مظلوم و جارح کے عمومی احساس کے ساتھ ملا کر سمجھتی ہے۔
اسی لیے ایران مخالف شور، اگر وہ اصل جارح کی ذمہ داری کو پس منظر میں دھکیل دے، تو خود مشکوک ہو جاتا ہے۔ کمزور امریکی بیانیے کے ساتھ جڑنے والے لوگ عوام کی نظر میں جلد سوالیہ بن سکتے ہیں۔ چاہے وہ کھل کر امریکا یا اسرائیل کے حامی نہ بھی ہوں، اگر ان کی گفتگو کا حاصل یہی بنے کہ اصل جارحیت پس پشت ڈال دی جائے اور سارا زور ایران کی مذمت پر آ جائے تو انہیں یا تو فرقہ وارانہ یا مسلکی اختلاف کے تناظر میں دیکھا جائے گا، یا پھر امریکی سفارت خانوں کی خفیہ معلوماتی کاوشوں کے زیر اثر بریکٹ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
یہی وجہ ہے کہ اس بیانیے کی جنگ میں برتری اسی فریق کو ملتی دکھائی دیتی ہے جو عوامی ذہن میں زیادہ سادہ، زیادہ مربوط، اور موجودہ حالات سے زیادہ جڑا ہوا محسوس ہو۔ موجودہ فضا میں یہ جگہ زیادہ تر ایرانی بیانیے کو مل رہی ہے۔ امریکا شور بڑھا سکتا ہے، مقامی چہرے استعمال کر سکتا ہے، اور مہم چلا سکتا ہے، مگر جب تک وہ اس بنیادی سوال کا صاف جواب نہیں دیتا کہ جنگ کیوں شروع کی گئی، کس جواز سے کی گئی، اور کن شہریوں نے اس کی قیمت ادا کی، تب تک اس کی کہانی ایک مہم تو رہ سکتی ہے، مگر قائل کرنے والی سچائی نہیں بن سکتی۔
محمد اکمل خان اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ایک ڈاکومینٹری فلم پروڈیوسر ہیں، جو ماحولیاتی تبدیلی، علاقائی تنازعات، دہشت گردی، توانائی، سماجی مسائل اور سیاحت کے موضوعات پر لکھتے ہیں۔