ایران جنگ میں ٹرمپ کے لیے خلیجی ممالک اتحادی ہیں یا ‘قربانی کے بکرے’؟

تحریر: محمد اکمل خان

At least 51 students killed as US-Israel strikes on Iran escalate into regional crisis

28 فروری 2026 کے بعد ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں نے ایک بات واضح کر دی ہے کہ جارح قوتوں کی جنگ کا بوجھ اتحادیوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی جنگوں کا بڑا جھٹکا اکثر خلیجی ریاستیں سہتی ہیں۔ آبنائے ہرمز سے دنیا کے لگ بھگ پانچویں حصے کے برابر تیل اور مائع گیس گزرتی ہے جس نے موجودہ جنگ میں اس راستے سے ترسیل کو تقریباً مفلوج کر دیا ہے۔ اسے عالمی توانائی ایجنسی نے تیل کی فراہمی میں اب تک کی سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے۔ اس صورتحال میں سوال یہ نہیں کہ ٹرمپ ایران کے خلاف کس حد تک جائیں گے بلکہ یہ ہے کہ کیا وہ اپنے بڑے سیاسی اور تزویراتی مقاصد کے لیے خلیجی ریاستوں کو بلی چڑھا دیں گے؟

اس سوال کا سادہ جواب ممکن نہیں مگر حالیہ شواہد ایک واضح سمت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ‘رائٹرز’ کی 16 مارچ 2026 کی رپورٹ کے مطابق خلیجی عرب ریاستوں نے امریکہ سے جنگ شروع کرنے کا مطالبہ نہیں کیا تھا لیکن ایران کے حملوں کے بعد ان میں سے کئی ممالک چاہتے تھے کہ واشنگٹن ایران کی عسکری صلاحیت کو اس حد تک کمزور کرے کہ وہ آئندہ خلیج کی توانائی کی شہ رگ یعنی آبنائے ہرمز کو یرغمال نہ بنا سکے۔ اسی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ خود واشنگٹن خلیجی ریاستوں پر جنگ میں زیادہ نمایاں شمولیت کے لیے دباؤ ڈال رہا تھا تاکہ اس مہم کو علاقائی جواز مل سکے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں اتحادی اور آلہ کار کے درمیان فرق دھندلا ہونا شروع ہوتا ہے۔

خلیجی ممالک  جنگ کے فریق نہیں، پھر بھی قیمت وہی کیوں ادا کرتے ہیں؟

خلیج کا سب سے بڑا مسئلہ اس کی جغرافیائی اہمیت ہے اور یہی اس کی کمزوری بھی ہے۔ امریکی فوجی اڈے، تیل و گیس کی تنصیبات، بندرگاہیں، مالیاتی مراکز، پانی صاف کرنے کے پلانٹ اور برآمدی راستے ایک ہی خطے میں جمع ہیں۔ اگر ایران پر دباؤ بڑھتا ہے تو اس کا سب سے فوری اور مؤثر جواب اسی علاقے میں آتا ہے۔ ایران نے حالیہ دنوں میں خلیجی ریاستوں میں ہوائی اڈوں، بندرگاہوں، تیل کی تنصیبات اور تجارتی مراکز کو میزائلوں اور ڈرونوں سے نشانہ بنایا جبکہ آبنائے ہرمز سے جہاز رانی بھی شدید متاثر ہوئی۔ ایران کے ان حملوں سے خلیجی ممالک کو صرف فوجی خطرہ لاحق نہیں بلکہ یہ ان کی معیشت پر بھی کاری ضرب ہے جو استحکام، سکیورٹی اور بہترین کاروباری ماحول پر قائم تھی۔

خلیجی ریاستیں امریکی تحفظ بھی چاہتی ہیں اور اسی امریکی عسکری موجودگی کی وجہ سے وہ ایرانی ردعمل کا پہلا ہدف بھی بنتی ہیں۔ قطر میں ‘العدید ایئر بیس’ امریکہ کے بیرونِ ملک بڑے فوجی اڈوں میں شمار ہوتی ہے اور امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق قطر نے 2003 سے اس اڈے کی تعمیر و توسیع پر 8 ارب ڈالر سے زیادہ خرچ کیا ہے۔ مطلب یہ کہ جس شراکت کو سکیورٹی چھتری سمجھا گیا وہی جنگ کے وقت خطرے کا نشان بھی بن سکتی ہے۔

Tracking the US military build-up ahead of its Iran attack ...

خلیجی ریاستیں اس بحران میں محض بے بس تماشائی نہیں بلکہ اسی امریکی دفاعی نظام کا حصہ رہی ہیں جس نے انہیں آج خطرے کی زد میں لا کھڑا کیا۔ امریکی اڈے، اسرائیل کے ساتھ علانیہ یا خفیہ تعلقات اور ایران کو روکنے کے لیے بیرونی طاقت پر انحصار ایسے فیصلے تھے جنہوں نے وقتی تحفظ تو دیا مگر ساتھ ہی انہیں ایرانی جنگی ردعمل کا ہدف بنا دیا۔ موجودہ جنگ نے یہ گہرا سوال کھڑا کر دیا ہے کہ اگر اتنی عسکری موجودگی اور دفاعی معاہدوں کے باوجود خلیجی تنصیبات اور سمندری راستے محفوظ نہیں تو مستقبل میں امریکی سکیورٹی ضمانت کی اصل قدر کیا رہ جاتی ہے؟

ٹرمپ کے فیصلوں میں خلیجی ممالک کی جگہ کہاں ہے؟

ٹرمپ کی پالیسی کو صرف بیانوں سے نہیں بلکہ ترجیحات سے سمجھنا پڑتا ہے۔ اگر ان کے سامنے ایک طرف ایران کو کمزور کرنے، اسرائیل کو مطمئن رکھنے اور امریکی طاقت کا مظاہرہ کرنے کا ہدف ہو اور دوسری طرف خلیجی ریاستوں کی اقتصادی سلامتی تو حالیہ شواہد واضح کرتے ہیں کہ خلیجی مفادات ثانوی حیثیت اختیار کر جائیں گے۔ 28 فروری کے بعد کے حملوں نے واشنگٹن کے تحفظ کے وعدوں پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

امریکہ پچھلی کئی دہائیوں سے امریکی تحفظ کے بدلے خلیجی ممالک سے توانائی تک رسائی، ڈالر میں تیل کی تجارت اور خلیجی سرمایہ کا امریکی مالیاتی نظام میں بہاؤ یقینی بناتا رہا ہے۔ سعودی عرب، امارات، قطر، عمان اور بحرین کی کرنسیاں ڈالر سے منسلک ہیں اور ان کی معاون رقوم تقریباً 800 ارب ڈالر کے برابر سمجھی جاتی ہیں جبکہ خلیجی خودمختار فنڈز عالمی سطح پر 6 کھرب ڈالر سے زائد اثاثوں کے حامل ہیں۔ اگر جنگ یہ احساس پیدا کرے کہ امریکہ کے ساتھ قریبی اتحاد بھی سلامتی کی ضمانت نہیں تو خلیجی دارالحکومتوں کے لیے سوال صرف جنگی نہیں رہتا بلکہ معاشی اور سٹریٹجک بھی بن جاتا ہے۔

کیا آبنائے ہرمز دنیا کی معاشی شہ رگ ہے؟

آبنائے ہرمز اس پورے بحران کی اصل کنجی ہے۔ ایران نے اقوام متحدہ اور عالمی بحری تنظیم کو بتایا کہ اس تنگ بحری راستے سے صرف ”غیر دشمن“ جہاز گزر سکتے ہیں بشرطیکہ وہ ایرانی حکام سے ہم آہنگی رکھیں اور ایران کے خلاف جارحانہ سرگرمیوں کی حمایت سے دور رہیں۔ اس واضح مؤقف کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ ہرمز اب کھلی سمندری گزرگاہ نہیں بلکہ جنگی دباؤ کا کنٹرول پوائنٹ بن چکا ہے۔ جب ایک جارح ریاست دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے تیل اور مائع گیس کے راستے کو داؤ پر لگا دے تو خلیجی ریاستوں کی خودمختاری اور تجارت دونوں ہی خطرے میں پڑ جائیں گی۔

اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر محفوظ بنانا آسان نہیں۔ مغربی طاقتیں بحیرہ احمر میں حوثیوں کے خلاف برسوں کی مہنگی کارروائی کے باوجود جہاز رانی کو پوری طرح محفوظ نہیں بنا سکیں۔ وہاں 1 ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کے ہتھیار خرچ ہوئے، 4 جہاز ڈوبے اور تجارتی کمپنیاں آج بھی اس راستے سے بچتی دکھائی دیتی ہیں۔ آبنائے ہرمز اس کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل ہے کیونکہ ایران کے پاس ڈرون، میزائل، بارودی سرنگیں اور تنگ آبی گزرگاہ کے ساتھ پہاڑی ساحل کی جغرافیائی برتری موجود ہے۔ ماہرین کے مطابق اس راستے کو محفوظ بنانے کے لیے بڑی تعداد میں جنگی جہاز، فضائی نگرانی اور مہینوں کی کارروائی درکار ہو سکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ٹرمپ جنگ بڑھاتے ہیں تو خلیج کے لیے نقصان فوری ہو سکتا ہے جبکہ تحفظ کی بحالی سست، مہنگی اور غیر یقینی رہے گی۔

قطر، امارات اور سعودی عرب کی حالیہ جنگ بارے پالیسی مختلف کیوں ہے؟

خلیج کے تمام ممالک کو ایک یکساں بلاک سمجھنا بھی غلط ہوگا۔ گیس تنصیبات پر ایران کے حملوں کے بعد قطر کا رویہ نسبتاً محتاط ہے۔ 24 مارچ 2026 کو قطری وزارت خارجہ کا صاف کہنا تھا کہ ”دوحہ امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست ثالثی نہیں کروا رہا بلکہ تمام رسمی اور غیر رسمی سفارتی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔“ اسی بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر کشیدگی بے قابو رہی تو پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قطر امریکی شراکت داری برقرار رکھتے ہوئے بھی اپنے لیے سفارتی گنجائش رکھنا چاہتا ہے۔

متحدہ امارات کا راستہ مختلف ہے۔ 2020 کے ابراہیمی معاہدوں نے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات کو رسمی شکل دی اور اس کے بعد ایک نئی علاقائی صف بندی بنی مگر اس صف بندی کی قیمت بھی اتنی ہی زیادہ ہے۔ اسی وجہ سے جغرافیائی اعتبار سے اسرائیل سے نزدیک ایران کے ساتھ کشیدگی کے وقت امارات کو زیادہ نمایاں خطرے کا سامنا کرنا پڑا۔ متحدہ عرب امارات کا موقف رہا ہے کہ وہ تصادم نہیں چاہتا مگر اپنی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ”ضروری اقدامات کا حق“ محفوظ رکھتا ہے۔ اس ایک جملے میں ہی اماراتی کنفیوژن عیاں ہے کہ امریکہ کے ساتھ تعلق بھی برقرار رکھنا ہے مگر براہِ راست جنگ بھی نہیں لڑنی۔

سعودی عرب کی صورت حال اور بھی پیچیدہ ہے۔ 2023 میں ایران اور سعودی عرب نے چین کی ثالثی سے تعلقات بحال کرنے پر اتفاق کیا تھا جس کا مقصد خطے میں تناؤ کم کرنا تھا مگر موجودہ جنگ کے بعد پھر سے اعتماد میں تلخی در آئی ہے حتیٰ کہ سعودی وزیر خارجہ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا حق محفوظ رکھنے کی بات بھی کی ہے۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ سعودی عرب ایک ہی وقت میں دو متضاد حقیقتوں کے درمیان کھڑا ہے۔ اسے ایران سے خطرہ بھی ہے اور مکمل علاقائی جنگ سے بچنا بھی ہے۔

اسی لیے اسرائیل اور خلیجی ریاستوں کے اہداف کو ایک سمجھنا غلط ہوگا۔ اسرائیل کی ترجیح شاید ایران کو زیادہ سے زیادہ کمزور کرنا ہو مگر خلیجی ریاستوں کی ضرورت اس کے برعکس ایک ایسے علاقائی توازن کی ہے جس میں جنگ قابو سے باہر نہ جائے، تجارت معطل نہ ہو اور ریاستی استحکام محفوظ رہے۔ اسی فرق نے خلیجی عوام کے ایک حصے میں یہ احساس بھی پیدا کیا ہے کہ امریکہ نے انہیں تحفظ دینے کے بجائے اسرائیل کی خواہشات پر قربان کر دیا۔ یعنی اتحاد برقرار ہے مگر مفادات یکساں نہیں۔ فیصلہ کہیں اور ہوتا ہے جبکہ اس کا فوری معاشی، جغرافیائی اور نفسیاتی بوجھ خلیج اٹھاتا ہے۔

کیا خلیجی مفادات واقعی واشنگٹن کی پہلی ترجیح ہیں؟

حالیہ جنگ کے تناظر میں دیکھیں تو اس سوال کا جواب ہاں نہیں دکھائی دیتا۔ ایک طرف ٹرمپ انتظامیہ جنگ اور مذاکرات دونوں کی زبان استعمال کر رہی تھی  جبکہ دوسری طرف زمینی حقیقت یہ تھی کہ ہرمز کی بندش، سپلائی میں رکاوٹ اور توانائی کی قیمتوں کا دباؤ برقرار ہے۔ اگر کسی پالیسی کے دوران اتحادیوں کے ہوائی اڈے، بندرگاہیں، تیل تنصیبات، سرمایہ کاری کا ماحول اور سمندری راستے سب خطرے میں آ جائیں تو کم از کم یہ کہنا مشکل ہو جاتا ہے کہ ان کے مفادات مرکزی اہمیت کے حامل تھے۔

اگر خلیجی ریاستیں اس نتیجے پر پہنچیں کہ امریکی اتحاد ان کے لیے سیاسی وابستگی تو مانگتا ہے مگر یقینی تحفظ نہیں دیتا تو وہ چین، پاکستان اور دوسرے ایشیائی خریداروں کے ساتھ اپنے مالی اور تزویراتی تعلقات مزید بڑھا سکتی ہیں۔ یعنی آج کا جنگی دباؤ کل کے عالمی معاشی منظرنامے کو بھی بدل سکتا ہے۔

تو کیا ٹرمپ خلیجی ریاستوں کے مفادات قربان کر دیں گے؟

اس سوال کا سادہ سا جواب ہاں ہی ہوگا کیونکہ اگر ٹرمپ کو لگے گا کہ ایران پر زیادہ دباؤ، اسرائیل کو مطمئن کرنا یا امریکی داخلی سیاست میں طاقت کے مظاہرے کا فائدہ زیادہ ہے تو خلیجی مفادات کو ثانوی سمجھنا ان کے لیے عین ممکن ہے۔ یہ قربانی شاید کھلے لفظوں میں نہ ہو۔ اسے ”علاقائی سلامتی“، ”ایران کو روکنے“ یا ”سمندری راستے بچانے“ کے نام سے پیش کیا جائے مگر پالیسی کا اصل امتحان نیت نہیں بلکہ نتیجہ پر منحصر ہوتا ہے اور ابھی تک کے نتائج یہی ثابت کرتے ہیں کہ فیصلے واشنگٹن اور تل ابیب میں ہوتے ہیں جبکہ فوری معاشی اور جغرافیائی قیمت خلیجی ریاستیں ادا کرتی ہیں۔

موجودہ جنگی صورت حال میں سوال یہی نہیں کہ ٹرمپ ایران کے خلاف کیا کریں گے بلکہ  یہ ہے کہ وہ یہ سب کرتے ہوئے خلیج سے کتنی قیمت وصول کریں گے۔

 

محمد اکمل خان اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ایک ڈاکومینٹری فلم پروڈیوسر ہیں، جو ماحولیاتی تبدیلی، علاقائی تنازعات، دہشت گردی، توانائی، سماجی مسائل اور سیاحت کے موضوعات پر لکھتے ہیں۔