ایران کی جانب سے ٹرمپ کے بیانات مسترد، جنگی خطرات میں اضافہ

ایران نے امریکی صدر ٹرمپ کے مذاکراتی بیانات کو مسترد کرتے ہوئے اسے وقت ضائع کرنے کی حکمت عملی قرار دیا ہے اور امریکی فوجی تعیناتی کو ممکنہ بڑے حملوں کی تیاری سمجھا ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
ایران نے ٹرمپ کے مذاکراتی بیانات کو وقت ضائع کرنے کی سازش قرار دیا

تہران: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مذاکرات سے متعلق بیانات کو مسترد کرتے ہوئے اسے وقت ضائع کرنے کی حکمت عملی قرار دیا ہے۔ ایران نے امریکی فوجی تعیناتی کو ممکنہ بڑے حملوں کی تیاری سمجھا ہے۔

ایرانی حکومتی اور میڈیا حلقوں نے واضح کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ نہ براہ راست اور نہ بالواسطہ مذاکرات ہو رہے ہیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ٹرمپ کے بیانات امریکا کی پسپائی کا اظہار ہیں، کیونکہ امریکا ایران کے ردعمل سے خوفزدہ ہے۔

ایرانی پارلیمان کے ڈپٹی اسپیکر علی نیک زاد نے امریکا کے خلاف سخت مؤقف اپنانے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو ٹرمپ کے ساتھ مذاکرات نہیں کرنے چاہئیں کیونکہ وہ جھوٹے ثابت ہو چکے ہیں۔

نیک زاد کے مطابق ایران اپنی فوجی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد رکھتا ہے اور امریکی دھمکیوں کو بڑا جھوٹ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں مذاکرات کے دوران امریکا نے ایران پر حملے کیے۔

ماہرین کے مطابق ایران، امریکا کے بیانات کو خطے میں اپنی فوجی پوزیشن مضبوط کرنے کی حکمت عملی سمجھتا ہے۔ اگر سفارتی پیش رفت نہ ہوئی تو خطہ ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل ہو سکتا ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں