چوکیل بانڈہ: فطرت کے دلفریب رنگوں کی جادونگری

محمد اکمل خان

محبوب کا دل جیتنے کے لیے عاشق کا اس کے قدموں میں پھول بچھانا تو کوئی انوکھی بات نہیں، کمال یہ ہے کہ محبوب اپنے محبوب کے استقبال کے لیے تاحد نظر رنگا رنگ پھولوں کا قالین بچھا دے اور ہر قدم، اودے، پیلے، نیلے اور عنابی پھولوں کی پتیاں گہرے سبز قالین پر بکھری دکھائی دیں۔

برف پوش چوٹیوں سے قطرہ قطرہ پگھل کر آنے والا شفاف پانی مخمور سانپ کی طرح اس مرغزار میں لوٹ پوٹ ہوتا نظر آئے۔ بادل اوس کے مشکیزے بھر بھر کر نیچے گہری وادیوں سے بلند ہوں اور گھڑی دو گھڑی میں اس سبزہ زار کو جل تھل کر کے اگلی وادیوں کا رخ کر لیں۔ ہوا کے دوش پر بادل جب اڑ کر اگلی منزلوں کا رخ کرتے ہیں تو پیچھے نیلگوں آسمان کی چھتری تلے منظر اور بھی اجلا ہو جاتا ہے۔

سوات کی تحصیل بحرین سے قریبا 25 کلومیٹر دور وادی مانکیال میں 10 ہزار فٹ کی بلندی پر واقع چوکیل بانڈہ ایک ایسا خطہ ارضی ہے جہاں فطرت نے حسن کے تمام دلفریب رنگ اپنے دامن میں سمو رکھے ہیں۔ مانکیال کے بلند و بالا پہاڑ چاروں اطراف اس چمن زار کی حفاظت پر مامور دکھائی دیتے ہیں۔ ان پہاڑوں کی چوٹیاں سارا سال برف میں ڈھکی رہتی ہیں اور ان سے منعکس ہو کر پورا منظر قوس قزح میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

پنجاب کے میدانی علاقوں میں جیسے جیسے دھوپ کی تمازت بڑھنا شروع ہوتی ہے تو یہ حدت آہستہ آہستہ سوات کی پہاڑیوں کا رخ کرتی ہے اور یوں پہاڑوں کی چوٹیوں سے متصل ان چراگاہوں میں بہار جلوہ افروز ہو جاتی ہے۔

چوکیل بانڈہ کے کناروں پر بنے لکڑی، پتھر اور مٹی کے گھر اس منظر کو مزید دیدہ زیب بنا دیتے ہیں۔ آوارگان فطرت جب چوکیل میں بہار کے ابتدائی دنوں میں پہنچتے ہیں تو سامنے سبز گھاس میں ڈھکے ٹیلوں پر ان گھروں میں ابھی اس کے مکین نہیں پہنچے ہوتے کیوں کہ ابھی چوکیل بانڈہ میں برف کو پگھلے چند دن ہی ہوئے ہیں۔

اس چراہ گاہ کے بیس کیمپ یعنی کمرخوا گاوٴں میں بسنے والے گجر بکروال ابھی اس انتظار میں ہیں کہ چوکیل میں سبزہ قد نکال لے اور بہار اپنے جوبن پر آ جائے تو پھر وہ اپنے ریوڑوں کے ساتھ ان مکانوں میں آ کر آباد ہوں تاکہ ان کے جانور نرم گھاس اور انواع اقسام کی جڑی بوٹیوں کو خوراک بنا کر فربہ ہو جائیں اور پھر لذت کام و دہن کا باعث بن سکیں۔

سوات کی اس خوبصورت چراہ گاہ تک پہنچنے کے لیے صرف مضبوط ٹانگوں کا آسرا ہی کافی نہیں بلکہ پھولتی سانسوں کو سہارا دینے کے لیے ہمت اور حوصلے کی بلندی بھی درکار ہوتی ہے۔ عمودی دشوار گزار راستے پر ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا ہوتا ہے کہ ایک لمحے کی لغزش آپ کا سفر کھوٹا کر سکتی ہے۔ اس راستے پر بادل مسافروں کے سنگ اٹھکیلیاں کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

Chukail Banda

چوکیل کے لیے پیدل چلتے ہوئے جب پتھروں پر یک دم چیڑھ کے درخت سینہ تانے نظر آئیں تو مسافر کو لگتا ہے کہ شاید وہ منزل کے قریب ہیں لیکن بل کھاتا لہردار راستہ ہر گھڑی طویل ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ یہ راستہ ہر سال برف کے نیچے دب کر ختم ہو جاتا ہے اور پھر موسم گرما کی آمد کے ساتھ ہی بھیڑ بکریوں اور مقامی افراد کے قدم اسی عمودی دیوار پر نئے راستے کی بنیاد رکھ دیتے ہیں۔

چوکیل بانڈہ کی سیاحت کے لیے بہترین ایام کون سے ہیں؟

چوکیل کے میدان تک رسائی مئی کے مہینے میں ممکن ہو جاتی ہے لیکن جون کے وسط میں اس سبزہ زار میں بہار اپنے جوبن پر ہوتی ہے اور یہی ایام اس سحر انگیز مرغزار کی سیاحت کے لیے بہترین ہیں۔ اس سال کمر خوا کے بکروال عید الضحیٰ کے ایک ہفتہ بعد چراہ گاہ میں اپنے ریوڑوں کے ساتھ پہنچیں گے سو ان دنوں چوکیل کا حسن اپنے عروج پر ہے۔

اسلام آباد سے چوکیل بانڈہ کیسے پہنچا جا سکتا ہے؟

اسلام آباد سے مانکیال تک کا سفر قریبا 300 کلومیٹر ہے جس پر سال کے 12 مہینے دن رات کسی بھی وقت سفر کیا جا سکتا ہے۔

اسلام آباد سے بحرین اور وادی کالام کے لیے کوسٹر سروس دستیاب ہے جس کا اڈہ اسلام آباد کی سبزی منڈی کے بالمقابل پیرودھائی روڈ پر واقع ہے۔ یہاں سے عام طور پر رات نو بجے سے رات ایک بجے تک ہر گھنٹے بعد کوسٹر نکلتی ہے جس کے ذریعے پانچ گھنٹے میں مانکیال گاوٴں پہنچا جا سکتا ہے۔ سوات ایکسپریس وے سے ہوتے ہوئے چکدرہ، بری کوٹ، منگورہ، خوازہ خیلہ، مدین سے گزرتے علی الصبح مسافر بحرین پہنچ جاتے ہیں۔ بحرین سے کالام کا راستہ گذشتہ سال سیلاب کی وجہ سے مختلف مقامات پر خراب ہوا تھا لیکن ابھی کسی بھی قسم کی سواری پر یہ راستہ باآسانی طے کیا جا سکتا ہے۔

Chukail Banda

محمد اکمل خان اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ایک ڈاکومینٹری فلم پروڈیوسر ہیں، جو ماحولیاتی تبدیلی، علاقائی تنازعات، دہشت گردی، توانائی، سماجی مسائل اور سیاحت کے موضوعات پر لکھتے ہیں۔