باجوڑ میں سیکیورٹی فورسز نے دراندازی کی کوشش ناکام بناتے ہوئے ٹی ٹی پی کے ڈپٹی چیف سمیت چار دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔
باجوڑ: (رائیٹ ناوٴ نیوز) خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ میں پاک افغان سرحد کے قریب سیکیورٹی فورسز نے دراندازی کی کوشش ناکام بنا کر چار دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، جن میں تحریک طالبان پاکستان کے ڈپٹی چیف بھی شامل ہیں۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق، ان دہشت گردوں نے 29 اور 30 اکتوبر کی درمیانی شب پاک افغان بارڈر کے قریب دراندازی کی کوشش کی تھی، جسے سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کے ذریعے ناکام بنا دیا۔
ہلاک ہونے والوں میں انتہائی مطلوب خارجی کمانڈر امجد عرف مزاحم بھی شامل ہے، جو بھارتی حمایت یافتہ تنظیم فتنہ الخوارج کی رہبری شوریٰ کا سربراہ تھا۔ حکومت پاکستان نے اس کے سر کی قیمت 50 لاکھ روپے مقرر کر رکھی تھی۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گرد افغانستان میں مقیم رہتے ہوئے پاکستان میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں اور ان کی قیادت افغانستان سے پاکستان میں دراندازی کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔
سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں سینیٹائزیشن آپریشن شروع کر دیا ہے تاکہ کسی بھی دہشت گرد کی ممکنہ موجودگی کو ختم کیا جا سکے۔ ترجمان نے کہا کہ "عزمِ استحکام” کے وژن کے تحت ملک بھر میں انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔











