مہنگا پٹرول، بھاری ٹیکس، کمزور اصلاحات، ’’دا ریویو‘‘ میں حکومتی پالیسیوں پر کڑی تنقید

پاکستانی معیشت، ٹیکسز، پٹرولیم قیمتوں اور افغانستان پر تنقیدی جائزہ

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

اسلام آباد: (رائیٹ ناؤ نیوز)ایکسپریس نیوز کے پروگرام ’’دا ریویو‘‘ میں کامران یوسف اور شہباز رانانے پاکستان کی معیشت، ٹیکس پالیسی، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں، توانائی کے شعبے میں بڑھتا ہوا سرکلر ڈیٹ، گاڑیوں اور موبائل فونز پر عائد ٹیکسز، ایف بی آر کی کارکردگی، اور افغانستان سے متعلق حالیہ سفارتی و سکیورٹی پیش رفت پر تفصیلی گفتگو کی۔ پروگرام کے مختلف حصوں میں حکومتی پالیسیوں پر تنقیدی سوالات اٹھائے گئے اور ان کے عوامی اثرات کو زیرِ بحث لایا گیا۔

پٹرولیم مصنوعات، ٹیکسوں کا بوجھ اور عوامی اثرات

پروگرام کے آغاز میں کامران یوسف نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو عوام کے لیے ایک مستقل اور سنگین مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ خطے کے بعض ممالک، خصوصاً قطر، میں تیل کی قیمتیں اس لیے کم ہیں کیونکہ وہاں توانائی کے وسائل مقامی ہیں اور ان پر بھاری ٹیکس عائد نہیں کیے جاتے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ قطر میں پٹرول کی قیمت پاکستانی معیار کے مطابق تقریباً 150 روپے فی لیٹر بنتی ہے، جبکہ پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس ہے۔

گفتگو کے دوران دونوں تجزیہ کاروں نے نشاندہی کی کہ پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل پر مختلف النوع ٹیکسز کے ساتھ ساتھ پٹرولیم لیوی بھی عائد کی جاتی ہے، جو وقت کے ساتھ بڑھتی چلی گئی ہے۔ شہباز رانا نے بتایا کہ پٹرول پر پٹرولیم لیوی اس وقت 79.62 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل پر 75 روپے فی لیٹر ہے، اور حکومت اس میں مزید 5 روپے فی لیٹر اضافہ کرنے پر غور کر رہی ہے۔

شہباز رانا کے مطابق، حکومتی منصوبے کے تحت پٹرول اور ڈیزل پر پٹرولیم لیوی میں اس اضافے سے 6 سال کے دوران تقریباً 540 ارب روپے اکٹھے کیے جائیں گے، جنہیں گیس سیکٹر کے سرکلر ڈیٹ کو کم کرنے کے لیے استعمال کرنے کا ارادہ ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا یہ اضافہ واقعی جائز ہے، اور کیا اس سے سرکلر ڈیٹ مستقل طور پر ختم ہو سکے گا یا نہیں۔

پاور اور گیس سیکٹر کا سرکلر ڈیٹ

پروگرام میں پاور سیکٹر کے سرکلر ڈیٹ پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ شہباز رانا نے بتایا کہ بجلی کے بلوں پر پہلے ہی 3.23 روپے فی یونٹ اضافی چارج وصول کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد پاور سیکٹر کے سرکلر ڈیٹ کو کم کرنا ہے، مگر اس کے باوجود پاور سیکٹر کا سرکلر ڈیٹ 1600 ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔

گیس سیکٹر کے حوالے سے انہوں نے انکشاف کیا کہ اس وقت مجموعی سرکلر ڈیٹ 3310 ارب روپے کے قریب پہنچ چکا ہے، جس میں سے 1710 ارب روپے اصل رقم (پرنسپل) اور بقیہ لیٹ پیمنٹ سرچارج اور سود پر مشتمل ہے۔ شہباز رانا کے مطابق، حکومتی منصوبہ یہ ہے کہ اصل رقم کو مرحلہ وار ختم کیا جائے جبکہ سرچارج کو معاف کرنے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ اس سرکلر ڈیٹ کا بڑا حصہ ماضی میں گیس کی قیمتیں کم رکھنے، مہنگی ایل این جی کے پاور سیکٹر میں استعمال نہ ہونے، اور ایف بی آر کی جانب سے سیلز ٹیکس و انکم ٹیکس ریفنڈز کی عدم ادائیگی کے باعث پیدا ہوا۔

حکومتی منصوبہ اور اس پر تحفظات

شہباز رانا نے بتایا کہ حکومت اس 1710 ارب روپے کے گیس سیکٹر سرکلر ڈیٹ کو 6 سال میں ختم کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے، جس میں چار بڑے ذرائع شامل ہیں:

  • حکومتی ملکیت کمپنیوں کے منافع سے 680 ارب روپے

  • پٹرولیم لیوی میں اضافے سے 540 ارب روپے

  • قطر سے آنے والی ایل این جی کی ڈائیورژن سے 415 ارب روپے

  • دیگر انتظامی اقدامات

تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ اس منصوبے کی ابھی تک آئی ایم ایف سے منظوری نہیں لی گئی، اور وفاقی کابینہ کی سطح پر بھی اس پر مزید بحث متوقع ہے۔ میزبانوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ماضی کی طرح قیمتیں بڑھانے کے باوجود اگر سرکلر ڈیٹ ختم نہ ہوا تو اس کا بوجھ مسلسل عوام ہی اٹھاتے رہیں گے۔

گاڑیوں کی درآمدی اسکیموں میں تبدیلیاں

پروگرام کے ایک اور حصے میں گاڑیوں کی درآمد سے متعلق حکومتی فیصلوں پر بات کی گئی۔ شہباز رانا نے بتایا کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) نے بیگیج اسکیم کو ختم کرنے جبکہ ٹرانسفر آف ریزیڈنس اور گفٹ اسکیم کی شرائط کو سخت کرنے کی منظوری دی ہے۔

انہوں نے تفصیل سے بتایا کہ اب ایک پاسپورٹ پر گاڑی منگوانے کے درمیان وقفہ 2 سال سے بڑھا کر 3 سال کر دیا گیا ہے، بیرونِ ملک قیام کی شرط 2 سال سے بڑھا کر 3 سال، اور مجموعی قیام کی مدت 700 دن سے بڑھا کر 850 دن کر دی گئی ہے۔ مقصد، ان کے بقول، اسکیم کے غلط استعمال کو روکنا ہے۔

تجزیہ کاروں نے سوال اٹھایا کہ آیا یہ فیصلے آئی ایم ایف کی جانب سے معیشت کو لبرلائز کرنے کے مطالبات کے برعکس نہیں، اور کیا اس سے عام صارف کے لیے گاڑی درآمد کرنا مزید مشکل نہیں ہو جائے گا۔

موبائل فونز پر ٹیکس اور ڈیجیٹائزیشن کا تضاد

پروگرام میں موبائل فونز پر عائد ٹیکسز کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ شہباز رانا نے کہا کہ ایک طرف حکومت ڈیجیٹائزیشن اور کیش لیس اکانومی کی بات کرتی ہے، جبکہ دوسری طرف موبائل فونز کو ’’عیاشی‘‘ قرار دے کر ان پر بھاری ٹیکس عائد کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ 700 ڈالر مالیت کے فون پر مجموعی طور پر تقریباً 193,000 روپے ٹیکس بنتا ہے، جس میں موبائل لیوی، ریگولیٹری ڈیوٹی، ودہولڈنگ ٹیکس اور 25 فیصد سیلز ٹیکس شامل ہیں۔ انہوں نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں ہونے والی بحث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کئی ارکان اور حتیٰ کہ چیئرمین پی ٹی اے نے بھی اس ٹیکس پالیسی پر سوالات اٹھائے ہیں۔

شہباز رانا کے مطابق، چیئرمین پی ٹی اے نے بتایا کہ ملک میں تیار ہونے والے موبائل فونز میں سے صرف 2 فیصد فائیو جی کے قابل ہیں، جبکہ حکومت فائیو جی کی نیلامی کی بات کر رہی ہے۔ میزبانوں نے کہا کہ بھاری ٹیکسز کے باعث لوگ بیرونِ ملک سے فون لا کر بغیر رجسٹریشن یا متبادل طریقوں سے استعمال کر رہے ہیں، جس سے ریاستی ریونیو کو نقصان ہو رہا ہے۔

ایف بی آر، ٹیکس شارٹ فال اور تنخواہ دار طبقہ

پروگرام میں ایف بی آر کی کارکردگی پر بھی گفتگو ہوئی۔ شہباز رانا نے بتایا کہ چیئرمین ایف بی آر نے وزیراعظم کو بریفنگ میں آگاہ کیا ہے کہ دسمبر کے آخر تک 562 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا خدشہ ہے۔ انہوں نے تنخواہ دار طبقے کو بھیجے گئے ایڈوانس ٹیکس نوٹسز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ طبقہ پہلے ہی محدود وسائل میں ٹیکس ادا کر رہا ہے، اور مزید بوجھ اس کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے۔

افغانستان، فتوے اور علاقائی سفارتکاری

پروگرام کے آخری حصے میں افغانستان سے متعلق اہم پیش رفت پر گفتگو ہوئی۔ میزبانوں نے بتایا کہ کابل میں 1000 علماء کے اجتماع میں ایک پانچ نکاتی قرارداد منظور کی گئی، جس میں اس بات کی تائید کی گئی کہ کوئی افغان شہری افغانستان سے باہر جا کر کسی دوسرے ملک کے خلاف کارروائی نہیں کرے گا۔ طالبان امیر ہیبت اللہ اخوندزادہ کے حوالے سے بتایا گیا کہ اس کی خلاف ورزی کو بغاوت تصور کیا جائے گا۔

شہباز رانا کے مطابق، پاکستان نے اس پیش رفت کا محتاط انداز میں خیرمقدم کیا ہے، تاہم دفتر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ تحریری یقین دہانی اور عملی اقدامات ضروری ہیں۔ پروگرام میں تہران میں ہونے والی علاقائی ملاقات، افغان طالبان کی عدم شرکت، اور حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج الدین حقانی کے حالیہ خطبے کا بھی ذکر کیا گیا، جس میں انہوں نے زور دیا کہ حکومتیں خوف اور جبر کے بجائے عوامی اعتماد سے چلنی چاہئیں۔

پروگرام کے اختتام پر میزبانوں نے کہا کہ معیشت، ٹیکس پالیسی اور علاقائی سلامتی سے متعلق یہ تمام معاملات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اور ان کے فیصلوں کے اثرات براہِ راست عوام پر پڑتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومتی پالیسیوں کے عملی نتائج ہی اصل کسوٹی ہوں گے۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز

دیگر متعلقہ خبریں