مقابل پروگرام میں عسکری احتساب سے فضائی آلودگی کے حوالے سے بڑا مکالمہ
تحریک انصاف کے رہنما تیمور سلیم جھگڑا سے ملکی سیاسی معاملات پر عامر متین کی سیر حاصل گفتگو
92 نیوز کے پروگرام “مقابل” میں ملکی سیاست، عسکری احتساب، انتخابی دھاندلی، معاشی پالیسیوں اور فضائی آلودگی جیسے سنگین مسائل پر گفتگو کی گئی۔ پروگرام کا پہلا اور اہم موضوع سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو فوجی عدالت سے 14 سال قیدِ بامشقت کی سزا کا فیصلہ تھا، جس نے ملکی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
ربیعہ احسن نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے عامر متین سے پوچھا کہ یہ فیصلہ تاریخی کیوں قرار دیا جا رہا ہے۔ اس پر عامر متین نے یاد دلایا کہ یہ کیس دراصل 2017 کے اس واقعے سے جڑا ہے جب ٹاپ سٹی کے مالک کنور معیز خان کے گھر پر رات 2 بجے رینجرز نے کارروائی کی تھی۔ انہوں نے کہا، “لوگ بھول چکے ہیں کہ اصل پس منظر کیا تھا۔ نہ ایف آئی آر تھی، نہ پولیس کو خبر، اور گھر سے سونا، گھڑیاں اور کروڑوں روپے لے جائے گئے۔”
عامر متین نے بتایا کہ کنور معیز خان اور ان کے خاندان پر شدید تشدد کیا گیا، ان کے سسر بھی ان کی رہائی کے بعد چل بسے، جبکہ دیگر ساتھیوں پر بھی جسمانی تشدد کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ اس بات کی علامت ہے کہ ’’ریاست نے پہلی بار ایک طاقتور سابق آئی ایس آئی چیف کے خلاف کارروائی کی ہے۔‘‘
پروگرام میں تحریک انصاف کے رہنما تیمور سلیم جھگڑا نے بھی گفتگو میں حصہ لیا۔ ربیعہ احسن نے ان سے پوچھا کہ وہ اس فیصلے کو کیسے دیکھتے ہیں؟ جھگڑا نے جواب دیا، ’’میں فوجی معاملات سے دور رہتا ہوں… یہ فوج جانے اور جنرل فیض۔‘‘ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر انصاف ہونا ہے تو بلا تفریق ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق پاکستان کی 78 سالہ تاریخ میں عسکری کردار کوئی نئی بات نہیں، مگر پہلی بار ایک سابق آئی ایس آئی چیف کو سزا سنائی گئی ہے۔
ربیعہ احسن نے پابندی اور گورنر راج کے امکان پر سوال کیا تو جھگڑا نے مسکراتے ہوئے کہا،
’’جس پارٹی کو الیکشن میں حصہ لینے نہیں دیا، جسے نشان نہیں دیا، جس کے چیئرمین کو جیل میں رکھا… اس پر اور کیا پابندی لگائیں گے؟‘‘
انہوں نے گورنر راج کی بات کو سیاسی دھمکی قرار دیا۔
گفتگو کا اگلا حصہ انتخابی دھاندلی کے الزامات پر تھا۔ جھگڑا نے بتایا کہ انہوں نے اور دیگر امیدواروں نے وزیراعلیٰ کو خط لکھا ہے کیونکہ ’’590 فارم 45 میں واضح تضادات موجود ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ بعض حلقوں میں فارم غائب ہیں اور بعض جگہ ایک ہی پولنگ اسٹیشن کے دو مختلف فارم موجود ہیں۔ ان کے مطابق ’’الیکشن کمیشن650 دن خاموش رہا، مگر جب ہم نے اینٹی کرپشن کو لکھا تو 6 گھنٹے میں خط آگیا کہ تحقیقات روک دیں۔‘‘
اس کے بعد پروگرام میں گفتگو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی جانب چلی گئی، جہاں موبائل فونز پر 55 فیصد سے زائد ٹیکس کو “غیر معقول” قرار دیا گیا۔ ایک ممبر نے بتایا کہ “3لاکھ 70 ہزار کا فون خریدا، مگر ایک لاکھ 90 ہزار ٹیکس کی وجہ سے رجسٹر نہیں ہو رہا۔” عامر متین نے کہا کہ موبائل فون اب لگژری نہیں، بلکہ بنیادی ضرورت بن چکا ہے، مگر پالیسی ایسے ہے جیسے یہ امیروں کی چیز ہو۔
پروگرام کے آخری حصے میں پاکستان میں فضائی آلودگی کی صورتحال پر بات ہوئی۔ عامر متین نے پاکستان ایئر کوالٹی انیشی ایٹو کی تازہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، “ہر شہری کی اوسط عمر میں 3 سے 7 سال کمی ہو رہی ہے۔ لاہور کے لوگ سات سال تک زندگی کھو رہے ہیں۔” ربیعہ احسن نے بتایا کہ نومبر 2024 میں لاہور میں AQI 1900 اور ملتان میں 2000 سے بھی تجاوز کر گیا تھا۔ ماہرین نے اس صورتحال کو “صحت ایمرجنسی” اور “گورننس کی ناکامی” قرار دیا۔
پروگرام کے اختتام پر عامر متین نے کہا کہ ’’حکومت کو چھوٹے مسائل بھی حل نہیں ہو رہے، جبکہ بڑے فیصلوں کا بوجھ اٹھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘‘
ربیعہ احسن نے گفتگو سمیٹتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے سنگین مسائل کا حل اسی وقت نکل سکتا ہے جب شفافیت، ادارہ جاتی اصلاحات اور سیاسی استحکام کو ترجیح دی جائے۔
بشکریہ 92 نیوز











