وزیر بلدیات سندھ ناصر شاہ نے محسن نقوی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے صوبوں کی تشکیلِ نو کو انتظامی اصلاحات سے الگ معاملہ قرار دیا۔
کراچی: (رائیٹ ناؤ نیوز) وزیر بلدیات سندھ سید ناصر شاہ نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے بیان پر کہا ہے کہ انتظامی اصلاحات اور صوبوں کی تشکیلِ نو دو مختلف معاملات ہیں۔ انہوں نے محسن نقوی کی بہتر حکمرانی کی ضرورت پر اتفاق کیا، لیکن صوبوں کی حدود میں تبدیلی کو انتظامی ضرورت قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ناصر شاہ نے کہا کہ صوبے محض انتظامی یونٹ نہیں، ان کی تاریخ، شناخت، ثقافت اور آئینی حیثیت ہے۔ انتظامی اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے لیے موجودہ آئینی ڈھانچے میں بھی اصلاحات ممکن ہیں۔ نئے اضلاع اور تحصیلیں بنائی جا سکتی ہیں۔
وزیر بلدیات نے وضاحت کی کہ سندھ کے عوام اپنی سرزمین اور شناخت کے بارے میں واضح رائے دے چکے ہیں۔ سندھ کی تقسیم محض انتظامی تجویز نہیں بلکہ عوام کے جذبات اور تاریخ سے جڑا معاملہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہر مثبت تجویز پر بات کرنے کو تیار ہیں، لیکن سندھ کی وحدت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ سندھ کے عوام کی رائے کا احترام ہونا چاہیے۔ صوبوں کو کمزور کرنے سے پاکستان مضبوط نہیں ہوگا۔
یاد رہے کہ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لئے مضبوط وفاق اور صوبوں کے درمیان آئینی ہم آہنگی ضروری ہے۔ تمام اکائیوں کے حقوق کا تحفظ پاکستان کی مضبوطی کا ضامن ہوگا۔












