عمران خان کی اسپتال منتقلی، سابق وزرائے اعظم کو جیل میں کیا سہولتیں ملیں؟

سپریم کورٹ کے حکم پر عمران خان کو جیل سے شفا اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں صحت کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
عمران خان کی اسپتال منتقلی، سابق وزرائے اعظم کو جیل میں کیا سہولتیں ملیں؟

اسلام آباد: (رائیٹ ناؤ نیوز)سابق وزیراعظم عمران خان کی نجی اسپتال منتقلی کے عدالتی حکم نے قیدیوں کی طبی سہولتوں پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو اور نواز شریف بھی مختلف ادوار میں قید کا سامنا کرچکے ہیں۔

ذوالفقار علی بھٹو کو راولپنڈی سینٹرل جیل میں انتہائی سخت حالات میں رکھا گیا تھا۔ ان کا سیل تقریباً 7 فٹ چوڑا اور 10 فٹ لمبا تھا، جہاں محدود بنیادی سہولتیں دستیاب تھیں۔ قید کے آخری دنوں میں ان سے بستر، دوائیں اور دیگر اشیا بھی واپس لے لی گئی تھیں۔

بے نظیر بھٹو نے جنرل ضیا الحق کے دور میں کراچی اور سکھر سمیت مختلف جیلوں میں قید کاٹی۔ انہوں نے اپنی کتاب میں سکھر جیل کے سیل کو سرد، گندا اور بنیادی سہولتوں سے محروم قرار دیا۔ شدید بیماری کے بعد انہیں کئی ماہ کی درخواستوں کے نتیجے میں نجی اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کو مختلف ادوار میں جیل کے دوران بہتر درجے کی سہولتیں حاصل رہیں۔ انہیں بہتر بستر، میز، کرسی، کتابیں، اخبارات اور ٹی وی رکھنے کی سہولت فراہم کی گئی۔ خصوصی اجازت کے تحت اضافی خوراک اور خاندان سے ضروری اشیا وصول کرنے کی رعایت بھی حاصل رہی۔

نواز شریف کی صحت خراب ہونے پر انہیں جیل سے اسپتال بھی منتقل کیا گیا تھا۔ بعد میں لاہور میں ان کی رہائش گاہ جاتی امرا پر طبی نگہداشت اور علاج کے خصوصی انتظامات بھی کیے گئے۔ ان کے مختلف ادوار کی قید میں دستیاب طبی سہولتوں کی نوعیت حالات اور عدالتی احکامات کے مطابق مختلف رہی۔

عمران خان اگست 2023 سے مختلف مقدمات کے باعث جیل میں ہیں اور اڈیالہ جیل میں بی کلاس سہولتیں حاصل کر رہے ہیں۔ جیل حکام کے مطابق انہیں الگ رہائشی جگہ، ورزش کا سامان، کتابیں، اخبارات، ٹی وی، میز، کرسی، روم کولر اور ہیٹر فراہم کیے گئے ہیں۔ ان کے لیے الگ باورچی خانے اور مخصوص خوراک کا انتظام بھی موجود ہے۔

جیل رپورٹ کے مطابق عمران خان کی خوراک میں کافی، دلیہ، شہد، دودھ، پھل، خشک میوہ جات، دیسی مرغی اور مٹن شامل رہے ہیں۔ دوسری جانب عمران خان، ان کے اہل خانہ اور وکلا محدود ملاقاتوں، گرمی، حبس اور قید تنہائی سے متعلق شکایات کرتے رہے ہیں۔

سپریم کورٹ نے 18 اگست کو عمران خان کو علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے طبی ماہرین کی نگرانی میں علاج اور ہفتہ وار خاندانی ملاقات یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔ وفاقی حکومت نے فیصلے پر نظرثانی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں سابق وزرائے اعظم کی قید کے حالات مختلف سیاسی اور قانونی ادوار میں یکساں نہیں رہے۔ 

دیگر متعلقہ خبریں