لاہور ہائیکورٹ نے پیڈا ایکٹ کے تحت انکوائری کے بغیر برطرفی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ملازم کو دوبارہ بحال کرنے کا حکم دیا۔
لاہور: (رائیٹ ناؤ نیوز) لاہور ہائیکورٹ نے پیڈا ایکٹ کے تحت انکوائری کے بغیر ملازم کی برطرفی کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ عدالت نے کہا کہ برطرفی بطور سزا پیڈا ایکٹ میں شامل نہیں ہے۔
عدالت نے یہ فیصلہ لاہور جنرل ہسپتال کے سکیورٹی گارڈ شفیق خوشنود کی درخواست پر سنایا۔ شفیق پر چوری اور غیر حاضری کے الزامات تھے۔ محکمے نے شوکاز نوٹس کے بعد باضابطہ انکوائری کے بغیر اسے برطرف کر دیا تھا۔
عدالت نے سرکاری فریق کی مخالفت کے باوجود قرار دیا کہ انکوائری کے بغیر برطرفی کا حکم قانونی نہیں۔ متعلقہ اتھارٹی نے انکوائری نہ کرانے کی کوئی ٹھوس وجہ بیان نہیں کی۔
یہ فیصلہ قدرتی انصاف کے اصولوں کے تحت اہم ہے۔ عدالت نے کہا کہ ملازم کو دفاع کا مکمل موقع ملنا ضروری ہے، خاص کر جب بڑی سزا دی جا رہی ہو۔
واضح رہے کہ پیڈا ایکٹ کے تحت برطرفی کی سزا شامل نہیں، عدالت نے درخواست گزار کی بحالی اور محکمہ کو انکوائری کا اختیار دیا ہے۔












