سینیٹ کمیٹی نے وفاقی حکومت پر 18ویں آئینی ترمیم پر عمل درآمد نہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے، جس سے قومی خزانے کو کھربوں روپے کا نقصان ہورہا ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناؤ نیوز) سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اختیارات کی منتقلی نے وفاقی حکومت پر 18ویں آئینی ترمیم پر مکمل عمل درآمد نہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ کمیٹی نے کہا ہے کہ صوبوں کو منتقل ہونے والے محکمے وفاق کے پاس رہنے سے قومی خزانے کو ہر سال 5 سے 6 کھرب روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔
کمیٹی کے اجلاس میں بتایا گیا کہ مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ کا جائزہ لینے پر معلوم ہوا کہ غیر ضروری اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کمیٹی نے مختلف وزارتوں کے جوابات کو غیر تسلی بخش قرار دیا اور آئینی تقاضوں سے متصادم بتایا۔
کمیٹی نے کہا کہ ریلوے، تیل و گیس، نیپرا، اوگرا جیسے ادارے مشترکہ مفادات کونسل کے تحت چلائے جائیں۔ کمیٹی نے آئین کے آرٹیکل 154 کے تحت سی سی آئی کو فعال کرنے کا مطالبہ کیا۔
کمیٹی نے 25 وزارتوں کو وفاق کے پاس رکھنے کو غیر آئینی قرار دیا اور کہا کہ ان اداروں کو صوبوں کو منتقل کیا جائے۔ اس منتقلی سے ملازمین کے حقوق متاثر نہیں ہونے چاہییں۔
واضح رہے کہ 18ویں آئینی ترمیم 2010 میں منظور کی گئی تھی، جس کے تحت اختیارات صوبوں کو منتقل کیے گئے تھے۔ ترمیم پر مکمل عمل درآمد اور سی سی آئی کے کردار پر آئینی بحث جاری ہے۔












