لاہور میں نند بھابھی کی حراست میں موت کا کیس، مدعی ذیشان لطیف کے کردار پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ پولیس نے عدالتی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
لاہور: (رائیٹ ناؤ نیوز) لاہور کے ٹاؤن شپ علاقے میں نند بھابھی کی پولیس حراست میں موت کا کیس اہم پیش رفت کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ ذیشان لطیف، جنہوں نے خواتین پر چوری اور فراڈ کا مقدمہ درج کرایا تھا، کے مشکوک کردار پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق ذیشان لطیف 3 مقدمات میں مدعی اور گواہ بن چکا ہے۔ مزید یہ کہ وہ ٹاؤن شپ اور قائداعظم انڈسٹریل ایریا میں درج فراڈ کے مقدمات میں ملزمان کا ضمانتی بھی رہا ہے۔
پولیس کے مطابق دونوں خواتین کی موت پولیس حراست میں ہوئی اور تفصیلی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں تشدد کا کوئی نشان ثابت نہیں ہوا۔ رپورٹ میں دل اور پھپھڑوں کے مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے۔
کیس کی عدالتی تحقیقات جاری ہیں۔ ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے مطابق اگر پولیس تشدد ثابت ہوا تو ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
یاد رہے کہ خواتین پر چوری اور دھوکہ دہی کے الزام میں 4 اگست کو مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ان کی موت کے بعد اہل خانہ نے پولیس پر تشدد کے الزامات عائد کیے ہیں۔














