کراچی میں میر رضا کی موت پر پولیس کی کارکردگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ نئی میڈیکل رپورٹ نے کیس کی پیچیدگی کو بڑھا دیا ہے اور تفتیش میں کئی اہم پہلو نظرانداز ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
کراچی: (رائیٹ ناؤ نیوز) کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا علی کے قتل کے معاملے میں پولیس کی غفلت سامنے آئی ہے۔ نئی میڈیکل رپورٹ کے بعد کئی سوالات نے جنم لے لیا ہے۔ پولیس کی جانب سے کیس میں لاپرواہی کے شواہد ملے ہیں۔
میڈیکل رپورٹ کے مطابق میر رضا کو پیچھے سے گولی لگی تھی اور جسم پر تشدد کے نشانات تھے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ میر رضا کی پسلیاں ٹوٹی ہوئی تھیں اور سر پر زخموں کے نشانات موجود تھے۔ پولیس سرجن کے اٹھائے گئے 14 نکات کے جوابات مل چکے ہیں۔
نئی میڈیکل رپورٹ کے بعد سوالات اٹھے ہیں کہ کیس میں پستول کی گولی کا خول موقع واردات سے پہلے روز کیوں نہیں ملا؟ گولی کا خول 8 روز بعد کیسے برآمد ہوا اور فارنزک رپورٹ کیوں نہیں آئی؟
واقعے کے مقام کے قریب گیسٹ ہاؤس کے ذکر نے مزید سوالات کو جنم دیا ہے۔ پولیس نے گیسٹ ہاؤس کے افراد سمیت 51 افراد کے بیانات لیے ہیں، لیکن یہ بیانات اب تک کیس فائل کا حصہ کیوں نہیں بنے؟
واضح رہے کہ پولیس نے واقعے کے کئی روز بعد گیسٹ ہاؤس کے 6 افراد کو حراست میں لیا ہے۔ پولیس تفتیش جاری رکھنے کا دعویٰ کرتی ہے، لیکن اہم پہلو نظرانداز ہونے کا خدشہ موجود ہے۔















