ٹرمپ انتظامیہ نے واشنگٹن ڈی سی کے مجسموں پر سونے کی تہہ چڑھانے کے لیے تقریباً 50 لاکھ ڈالر خرچ کیے ہیں، جس پر ناقدین نے تنقید کی ہے۔
واشنگٹن ڈی سی: (رائیٹ ناؤ نیوز) ٹرمپ انتظامیہ نے واشنگٹن ڈی سی میں چار کانسی کے مجسموں پر سونے کی تہہ چڑھانے کے لیے تقریباً 50 لاکھ ڈالر خرچ کیے۔ یہ دعویٰ سوشل میڈیا پر کیا گیا ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق نیشنل پارک سروس نے اپریل 2026 میں ‘دی گلڈرز اسٹوڈیو’ کو 49 لاکھ 95 ہزار 263 ڈالر کا معاہدہ دیا، جو اضافی کام کی وجہ سے 50 لاکھ 95 ہزار 253 ڈالر تک پہنچ گیا۔
منصوبے میں مجسموں کی صفائی، مرمت، زنگ سے تحفظ اور 23.75 قیراط سونے کی تہہ چڑھانا شامل ہے۔ اس منصوبے کی اہمیت کے پیش نظر 55 پاؤنڈ سونا استعمال کیا جائے گا۔
یہ مجسمے ‘آرٹس آف وار’ اور ‘آرٹس آف پیس’ واشنگٹن ڈی سی میں نصب ہیں۔ ان کی تزئین و آرائش امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات کے لیے کی جا رہی ہے۔
یاد رہے کہ ناقدین، بشمول سینیٹر برنی سینڈرز، نے اس منصوبے کو مہنگائی کے دوران عوامی پیسے کا غیر ضروری استعمال قرار دیا ہے۔















