بھارت کی کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی، عالمی برادری کی مذمت

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات کی عالمی سطح پر مذمت جاری ہے، جہاں 5 اگست 2019 کو آئینی حیثیت ختم کی گئی تھی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہوئیں۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
بھارت کی کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی، عالمی برادری کی مذمت

مظفر آباد: (رائیٹ ناؤنیوز) آج یومِ استحصالِ کشمیر منایا جا رہا ہے، جو کشمیری عوام کی حقِ خودارادیت کی علامت ہے۔ 5 اگست 2019 کو بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دی تھی۔

اس موقع پر جاری ایک دستاویزی فلم میں بھارتی بربریت کا شکار کشمیری عوام کی حالت زار کو اجاگر کیا گیا ہے۔ انٹرنیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کی رپورٹ کے مطابق 7151 افراد میں سے 4190 ابھی تک لاپتہ ہیں۔

جموں و کشمیر میں طویل کرفیو اور مواصلاتی بندش کے باعث 44500 کشمیری بے روزگار ہو چکے ہیں۔ برطانوی اخبار کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں 2 ہزار سے زائد اجتماعی قبریں دریافت ہوئیں ہیں۔

یہ مسئلہ اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ہے، جہاں ڈیڑھ کروڑ انسانوں کے حقوق کی پامالی ہو رہی ہے۔ پاکستان ہرسال 5 اگست کو یومِ استحصالِ کشمیر منا کر کشمیری عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔

یاد رہے کہ بھارت نے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو منسوخ کر کے یکطرفہ طور پر جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کیا تھا، جسے عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا جاتا ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں