حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کر دیا ہے جس سے عالمی تیل کی رسد متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
صنعاء: (رائیٹ ناؤ نیوز) ایران نواز حوثی گروپ نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی (نیول بلاکیڈ) کا اعلان کر دیا ہے۔ حوثیوں نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔
حوثیوں کے عسکری ترجمان نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے خلاف ‘آنکھ کے بدلے آنکھ’ کی پالیسی کے تحت بحری ناکہ بندی کی جا رہی ہے۔ یہ اقدام سعودی عرب کی جانب سے یمن پر عائد غیر منصفانہ محاصرے کے جواب میں کیا گیا ہے۔
تاحال سعودی عرب کی جانب سے حوثیوں کے اس اعلان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ ماہرین کے مطابق اگر باب المندب کی آبنائے بند کر دی گئی تو عالمی تیل کی رسد میں کمی کا خدشہ ہے۔
واضح رہے کہ باب المندب دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شامل ہے، جہاں سے بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان گزرتا ہے۔ حوثیوں کے اس اقدام سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
یاد رہے کہ ایران اور امریکہ دونوں سفارتی کوششیں دوبارہ شروع کرنا چاہتے تھے۔ حوثیوں کے تازہ اقدام نے ان امیدوں پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔














