وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ہائیکورٹ ججز کی تعیناتی کے لیے انٹرویوز کے عمل کا اعلان کیا ہے، جو شفافیت اور میرٹ کو فروغ دینے کی کوشش ہے۔
لاہور: (رائیٹ ناؤ نیوز) وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اعلان کیا ہے کہ ہائیکورٹ میں ججز کی تعیناتی کے لیے پہلی بار انٹرویوز کیے جائیں گے۔ انٹرویوز کا عمل 7 رکنی کمیٹی کے ذریعے مکمل ہوگا جو مجوزہ ناموں کا جائزہ لے گی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ وکلا کے علاج کے لیے حکومتی پالیسی بنائی جا رہی ہے۔ کینسر، گردے، جگر اور دل کی بیماریوں کے علاج کے لیے وکلا کو سرکاری اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
وزیر قانون نے مزید کہا کہ ججز کی کارکردگی جانچنے کے لیے آئینی نظام متعارف کروایا جا رہا ہے۔ ججز ایولیوایشن کمیٹی ہر سال کے آخر میں ججز کی کارکردگی کا جائزہ لے گی۔
انہوں نے کہا کہ ججز کی تعیناتی کا عمل میرٹ پر ہونا چاہیے اور کارکردگی کی بنا پر ججز کے خلاف ریفرنس بھیجا جا سکتا ہے۔ غیر تسلی بخش کارکردگی والے ججز کی برطرفی کی سفارش کی جا سکتی ہے۔
یاد رہے کہ یہ اقدام ججز کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور عدلیہ میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔














