آئی ایم ایف کا پاکستان سے ٹیکس رعایتوں میں کمی کا مطالبہ

آئی ایم ایف نے پاکستان سے بجٹ میں ٹیکس رعایتوں کی کمی کی درخواست کی ہے جس سے حکومت کو 40 ارب روپے کے اضافی محصولات کی توقع ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
آئی ایم ایف کا پاکستان سے ٹیکس رعایتوں میں کمی کا مطالبہ، بجٹ میں سخت فیصلوں کا امکان

اسلام آباد: (رائیٹ ناؤ نیوز) بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کی حکومت سے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف شعبوں کی ٹیکس رعایتوں میں مزید کمی کی درخواست کی ہے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق بجٹ مذاکرات میں ٹیکس اصلاحات پر اتفاق ہوا ہے، جس کے تحت ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لیے سخت فیصلے متوقع ہیں۔ یہ اقدامات بجٹ 26-2026 میں محصولات بڑھانے کے لیے کیے جائیں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ 30 جون 2026 کے بعد ٹیکس چھوٹ میں توسیع نہ کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ حکومت فاٹا اور پاٹا کے لیے انکم ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کے امکانات پر غور کر رہی ہے۔

اس اقدام سے حکومت کو 40 ارب روپے کے اضافی محصولات حاصل ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ تاہم، قبائلی علاقوں میں بجلی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا۔

یاد رہے کہ ہائبرڈ گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس اور الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی (CKD) کٹس پر چھوٹ ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ مقامی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فیصد سیلز ٹیکس برقرار رہے گا۔

دیگر متعلقہ خبریں