ایرانی اسپیکر باقر قالیباف نے امریکا سے مذاکرات میں پیشرفت کی تصدیق کی، لیکن جوہری معاملے اور آبنائے ہرمز پر اختلافات برقرار ہیں۔
تہران: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ایرانی وفد کے سربراہ باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات میں پیشرفت ہوئی ہے۔ تاہم جوہری معاملے اور آبنائے ہرمز پر اختلافات برقرار ہیں۔ ایران دائمی امن کے لیے نیک نیتی رکھتا ہے۔
ایرانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بیان میں کہا کہ ایران کو ضمانت چاہیے کہ امریکا اور اسرائیل جنگ دوبارہ شروع نہیں کریں گے۔ اگر کوئی غلطی کی گئی تو ایران پوری قوت سے جواب دے گا۔ مذاکراتی ٹیموں کو اب ایک دوسرے کے مؤقف کی زیادہ حقیقت پسندانہ سمجھ آگئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر امریکا ناکہ بندی ختم نہیں کرتا تو آبنائے ہرمز پر پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ امریکی ناکہ بندی جاہلانہ فیصلہ ہے اور آبنائے ہرمز کا کنٹرول ایران کے پاس ہے۔ امریکی مائن سویپنگ کی کوشش جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے۔
باقر قالیباف نے کہا کہ دیگر ممالک آبنائے ہرمز سے گزر سکتے ہیں، ایران نہیں گزر سکتا، یہ ناممکن ہے۔ امریکی وفد کو کہا گیا تھا کہ اگر ان کا جہاز آگے بڑھا تو ایران فائر کرے گا۔ بعد میں امریکیوں نے پیچھے ہٹنے کے لیے 15 منٹ مانگے اور انہیں وقت دیا گیا۔
یاد رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کئی سالوں سے جاری ہیں لیکن جوہری معاملے اور خطے میں عدم استحکام کی وجہ سے یہ معاملہ پیچیدہ ہے۔












