رونگٹے کھڑے ہونا، انسانوں میں کیوں ہوتا ہے؟

رونگٹے کھڑے ہونا، انسانی جسم کا قدرتی ردعمل ہے جو ہارمونز اور پٹھوں کے ذریعے تشکیل پاتا ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
رونگٹے کھڑے ہونا، انسانوں میں کیوں ہوتا ہے؟

کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ہم سب نے کبھی نہ کبھی محسوس کیا ہے کہ جب ڈراؤنی فلم دیکھتے ہیں یا سردی لگتی ہے تو جلد پر چھوٹے ابھار بن جاتے ہیں، جسے رونگٹے کھڑے ہونا کہا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق، یہ جسم کا قدرتی ردعمل ہے جو ہارمونز اور پٹھوں کے ذریعے پیدا ہوتا ہے۔ انسانی جلد کے نیچے ہر بال کی جڑ کے پاس ایک پٹھا ہوتا ہے جو ایریکٹر پائیلی کہلاتا ہے۔

ایڈرینالین ہارمون کی وجہ سے پٹھے سکڑتے ہیں، جس سے بال کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ عمل پیلوایریکشن کہلاتا ہے اور یہ چند سیکنڈز میں ختم ہو جاتا ہے۔

یہ عمل قدیم انسانوں اور ممالیہ جانوروں کے لیے سردی سے بچنے اور دشمن کو ڈرانے کے لیے مفید تھا۔ آج کل یہ زیادہ کارآمد نہیں، مگر جذباتی لمحات میں اب بھی ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ یہ ردعمل انسانی جسم کا ایک قدیم فوسل ریکیشن ہے، جو سخت جذبات کے دوران رونما ہوتا ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں