ولی نصر نے امریکہ ایران جنگ کو طویل اور خطرناک تنازع قرار دے دیا

پروفیسر ولی نصر نے امریکا کی ایران پالیسی میں عدم تسلسل کی نشاندہی کی، جس سے جنگ مزید پیچیدہ ہو رہی ہے اور خطے میں بے یقینی پیدا ہو رہی ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
امریکا کی ایران پالیسی میں عدم تسلسل سے جنگ پیچیدہ ہو رہی ہے

نیویارک: (رائیٹ ناوٴ نیوز)امریکا کی ایران سے متعلق پالیسی میں اہداف کا تسلسل نظر نہیں آتا اور یہی موجودہ جنگ کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہر پروفیسر ولی نصر کا خیال ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام سے لے کر میزائل صلاحیت تک مختلف اہداف نے خطے میں بے یقینی پیدا کی ہے۔

ولی نصر کے مطابق ابتدا میں ایران کے جوہری پروگرام کو ہدف قرار دیا گیا، پھر نظام کی تبدیلی کی بات سامنے آئی، اور بعد میں میزائل صلاحیت کو محدود کرنے کا مؤقف اختیار کیا گیا۔ ان کے بقول پالیسی میں اس ابہام نے نہ صرف خطے میں بے یقینی پیدا کی بلکہ جنگ کے دائرہ کار کو بھی وسیع کیا۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے اہداف نسبتاً واضح ہیں اور وہ ایران کی عسکری اور میزائل صلاحیت کو طویل مدت کے لیے کمزور کرنا چاہتا ہے۔ تاہم امریکا کے سیاسی اور عسکری اہداف میں واضح ہم آہنگی دکھائی نہیں دیتی، جس سے حکمت عملی کے بارے میں سوالات جنم لیتے ہیں۔

ولی نصر نے کہا کہ ایران اس تنازع کو اپنی بقا کی جنگ سمجھ رہا ہے۔ ان کے مطابق تہران فوری فیصلہ کن تصادم کے بجائے طویل دباؤ کی حکمت عملی اپنا رہا ہے تاکہ امریکا کی داخلی سیاست اور عالمی معیشت پر اثر ڈالا جا سکے۔

 پروفیسر ولی نصر کے مطابق ایران کی موجودہ حکمت عملی جنگ کو محدود رکھنے کے بجائے اسے مرحلہ وار وسیع کرنا، اس کی لاگت بڑھانا اور امریکا کو طویل تصادم میں الجھانا ہے تاکہ وہ موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی اور معاشی برداشت کو کمزور کر سکے۔ ان کے بقول تہران نے ابتدائی مرحلے میں بڑے اور فیصلہ کن حملوں کے بجائے مسلسل دباؤ اور خطرے کی فضا قائم کرنے کی پالیسی اختیار کی ہے، جس کا مقصد امریکی اور اسرائیلی فوجی صلاحیت کے ساتھ ساتھ ان کی سیاسی عزم کو بھی پرکھنا ہے۔

ولی نصر کے مطابق ایران کا اندازہ ہے کہ اگر جنگ طویل ہوتی ہے تو امریکا اور اس کے اتحادیوں پر عسکری وسائل، دفاعی نظام اور معاشی دباؤ میں اضافہ ہوگا۔ اسی تناظر میں تہران حملوں کے ذریعے عالمی توانائی منڈیوں اور خطے کے استحکام پر اثر ڈال کر لاگت بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، تاکہ یا تو مذاکرات کی راہ ہموار ہو یا ایسی صورتحال پیدا ہو جائے جس میں واشنگٹن کسی معاہدے پر آمادہ ہو۔ ان کے مطابق ایران معاشی اور فوجی دباؤ کے باوجود طویل مزاحمت کی صلاحیت رکھتا ہے، اس لیے اس کی حکمت عملی فوری فتح کے بجائے مخالفین کو تھکا دینے اور سیاسی قیمت بڑھانے پر مبنی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اہداف واضح نہ ہوئے تو جنگ کا دائرہ مزید پھیل سکتا ہے۔ ان کے مطابق ایسے تنازعات میں سیاسی مقاصد اور عسکری وسائل کے درمیان توازن ضروری ہوتا ہے، ورنہ کشیدگی خود کو تقویت دیتی رہتی ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں