پی آئی اے کی مکمل فروخت کی منظوری، بولی دہندگان کا حکومتی عمل دخل مسترد

حکومت نے پی آئی اے کے 100% حصص کی فروخت کی منظوری دی، 12% پریمیم پر اضافی حصص کی پیشکش۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
پی آئی اے کی مکمل فروخت کی منظوری، بولی دہندگان کا حکومتی عمل دخل مسترد [Draft]

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز)

حکومت نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) میں اپنا 100 فیصد حصہ فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم ایک چوتھائی حصص کامیاب بولی دہندگان کو 12 فیصد اضافی قیمت پر پیش کیے جائیں گے، جس کی ادائیگی ایک سال بعد کی جا سکتی ہے۔

حکومت صرف 7.5 فیصد بولی کی رقم نقد وصول کرے گی، جبکہ باقی 92.5 فیصد رقم پی آئی اے کمپنی میں سرمایہ کاری کے طور پر استعمال کی جائے گی۔ چار بولی دہندگان کی جانب سے حکومت کے ایئرلائن کے معاملات میں کردار نہ ہونے کی شرط پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

اگلے ہفتے 75 فیصد حصص کے لیے بولی لگائی جائے گی، جبکہ 25 فیصد باقی حصص ایک ماہ کے اندر 12 فیصد زیادہ قیمت پر خریدنے کا اختیار دیا جائے گا۔

وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے تصدیق کی ہے کہ حکومت نے بولی دہندگان کے لیے 25 فیصد باقی حصص کے حصول کا گرین شو آپشن فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ کمپنی کی مالی حالت میں بہتری کے ساتھ 12 فیصد پریمیم جائز ہے۔ پی آئی اے کی بحالی کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، جس کے لیے 92.5 فیصد بولی کی رقم کمپنی میں لگائی جائے گی۔

دیگر متعلقہ خبریں