کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی عمارت سیل ہونے سے پہلی بار 52 سالوں میں یومیہ کاٹن اسپاٹ ریٹ جاری نہیں ہوسکا، جس سے جنرز اور ٹیکسٹائل ملوں کی بینک فنانسنگ متاثر ہو گئی۔
کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) کراچی کاٹن ایسوسی ایشن (کے سی اے) 52 سالوں میں پہلی مرتبہ یومیہ کاٹن اسپاٹ ریٹ جاری کرنے میں ناکام رہی ہے، جس کے باعث جنرز اور ٹیکسٹائل ملوں کی بینک فنانسنگ اور انشورنس ویلیوایشن متاثر ہو گئی ہے۔
کراچی کاٹن ایسوسی ایشن 1935 سے مسلسل یومیہ کاٹن اسپاٹ ریٹ جاری کر رہی تھی، جو ملکی کاٹن تجارت اور بین الاقوامی مارکیٹس میں قیمتوں کے تعین کے لیے بنیادی حوالہ سمجھا جاتا ہے۔
یہ بحران اس وقت پیدا ہوا جب وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور ایویکیو ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ نے جمعہ کے روز کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی عمارت کو وفاقی حکومت کی ملکیت قرار دیتے ہوئے اس کا قبضہ سنبھال لیا اور عمارت کو سیل کر دیا۔
کاٹن جنرز فورم کے چیئرمین احسن الحق کے مطابق، عمارت سیل ہونے کے باعث گزشتہ دو دن سے کے سی اے اسپاٹ ریٹ جاری کرنے سے قاصر ہے، جس سے بینکوں کو گروی رکھے گئے کاٹن اسٹاک کے عوض قرضے فراہم کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
عالمی منڈیوں میں یومیہ کاٹن قیمتوں کی رپورٹنگ سے پاکستان کی غیر موجودگی کے باعث تجارتی نقصان کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں، جسے کاٹن سیکٹر کے لیے سنجیدہ خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔

![کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی عمارت سیل، اسپاٹ ریٹ جاری کرنے میں ناکامی [Draft]](https://rightnow.pk/wp-content/uploads/2025/12/12161_2025-12-17_06-14-48.webp)












