آئی ایم ایف نے پیٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس کی شرط عائد کی، ریفائنریز کی اپ گریڈیشن متاثر ہو سکتی ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری سے ریفائنریز کی اپ گریڈیشن کا منصوبہ خطرے میں پڑ گیا ہے کیونکہ آئی ایم ایف نے پیٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس عائد کرنے کی شرط رکھی ہے۔
آئی ایم ایف نے درآمدی مشینری پر ٹیکس چھوٹ دینے سے انکار کر دیا ہے، جس کے باعث ریفائنریز کی اپ گریڈیشن میں رکاوٹ پیش آ رہی ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اگر پیٹرولیم مصنوعات پر مزید 2 فیصد تک سیلز ٹیکس عائد کیا گیا تو پیٹرول کی قیمت میں 47 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 50 روپے فی لیٹر اضافہ ہو سکتا ہے۔
آئی ایم ایف نے 72 فیصد انویسٹمنٹ ریٹرن کے لیے سیلز ٹیکس کی شرط رکھی ہے جبکہ پاکستان میں موجودہ ریفائنریز یورو فائیو تیل صاف کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔
ملک میں 70 فیصد پیٹرول اور 30 فیصد ڈیزل درآمد کرنا پڑتا ہے، جس پر ٹیکسز کے نفاذ سے قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔














