پی ٹی آئی پر دباؤ، فیض حمید کی سزا اور 9 مئی کے واقعات پر حکومتی دعوے زیرِ بحث آئے۔ نئی سیاسی کمیٹی کے اعلان پر پارٹی میں اختلافات پیدا ہو گئے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناؤ نیوز)
جیو نیوز کے ٹی وی پروگرام ’’نیا پاکستان‘‘ کے میزبان شہزاد اقبال نےپاکستان تحریک انصاف کو درپیش سیاسی دباؤ، سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو سنائی گئی سزا، 9 مئی کے واقعات سے جڑے حکومتی دعوے، اور پی ٹی آئی کے اندرونی تنظیمی فیصلوں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ پروگرام میں حکومت اور اپوزیشن کے مؤقف، پارٹی کے اندر اختلافات، اور ملک کے توانائی بحران جیسے اہم معاملات کو الگ الگ حصوں میں زیرِ بحث لایا گیا۔
پی ٹی آئی پر دباؤ، فیض حمید کی سزا اور 9 مئی کا بیانیہ
پروگرام کے آغاز میں شہزاد اقبال نے بتایا کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کو سزا سنائے جانے کے بعد حکومت کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے کہ 9 مئی کے واقعات میں پاکستان تحریک انصاف اور فیض حمید کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ موجود تھا۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آ رہا ہے کہ فیض حمید ان واقعات کے حوالے سے عمران خان کے خلاف گواہی دے سکتے ہیں، جسے حکومت پی ٹی آئی کے لیے مزید مشکلات کے طور پر پیش کر رہی ہے۔
اسی پس منظر میں میزبان نے توجہ دلائی کہ دوسری جانب پی ٹی آئی نے نئی سیاسی کمیٹی کا اعلان کر کے پارٹی کے اندر ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ یہ کمیٹی 2 دسمبر کو بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہدایت کے بعد تشکیل دی گئی، تاہم اس کی فہرست سامنے آنے کے بعد پارٹی کے اندر اختلافی آوازیں سنائی دینے لگیں۔
نئی سیاسی کمیٹی اور اندرونی اختلافات
شہزاد اقبال کے مطابق، پی ٹی آئی کی جانب سے جاری کردہ نئی سیاسی کمیٹی کی فہرست پر پارٹی کے اندر اس لیے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ اس میں کئی ایسے سینئر رہنماؤں کے نام شامل نہیں جو ماضی میں نہ صرف سیاسی یا کور کمیٹی کا حصہ رہ چکے تھے بلکہ اہم حکومتی اور پارٹی عہدوں پر بھی فائز رہے۔ نئی فہرست پارٹی کے ایڈیشنل سیکرٹری جنرل فردوس شمیم نقوی اور سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے دستخط سے جاری کی گئی۔
اس فہرست کے مطابق کمیٹی میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر، سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا، سہیل آفریدی، علامہ راجہ ناصر عباس، محمود خان اچکزئی، شبلی فراز، اسد قیصر سمیت مجموعی طور پر 23 اراکین شامل ہیں۔ تاہم سابق صدر مملکت عارف علوی، سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور، سینیٹ میں پارلیمانی لیڈر سینیٹر علی ظفر، قومی اسمبلی میں نامزد پارلیمانی لیڈر شاہد خٹک، سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری، ذلفی بخاری، امجد علی خان، اعظم سواتی اور شہریار آفریدی کے نام فہرست میں شامل نہیں تھے۔
علی محمد خان کے تحفظات
پروگرام میں بتایا گیا کہ پی ٹی آئی کی سابق سیاسی کمیٹی کے رکن علی محمد خان نے اس فیصلے پر کھل کر تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا، ’’مجھے علم نہیں کہ اس نازک وقت میں سیاسی کمیٹی کو ختم کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی اور کس نے خان صاحب کو یہ مشورہ دیا۔ ‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ وہ اس فیصلے کی ٹائمنگ اور طریقۂ کار سے اختلاف رکھتے ہیں، تاہم وہ پارٹی فیصلے کی حمایت کریں گے۔ علی محمد خان کے مطابق،
’’جن رہنماؤں کو خود عمران خان نے سیاسی کمیٹی کا حصہ بنایا تھا، ان کی اکثریت کو نکالنا سیاسی دانشمندی نہیں۔ عوام کو کمیٹی کمیٹی کے کھیل میں کوئی دلچسپی نہیں، انہیں صرف عمران خان کی رہائی چاہیے۔ ‘‘
یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ پارٹی کے سینئر رہنماؤں کو سیاسی کمیٹی سے کیوں نکالا گیا۔
فردوس شمیم نقوی کا مؤقف
ان سوالات کے جواب کے لیے پروگرام میں پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اور ایڈیشنل سیکرٹری جنرل فردوس شمیم نقوی نے شرکت کی۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ نئی سیاسی کمیٹی کی تشکیل کسی کو پارٹی سے نکالنے کے مترادف نہیں۔ ان کے مطابق، ’’ہم نے کسی کو پارٹی سے نہیں نکالا۔ سیاسی کمیٹی کو چھوٹا کرنا مقصود تھا تاکہ فنکشنلٹی اور ایجیلیٹی بہتر ہو سکے۔ ‘‘
انہوں نے بتایا کہ نئی کمیٹی میں شامل افراد زیادہ تر اپنی آئینی اور تنظیمی پوزیشنز کے تحت شامل ہیں، نہ کہ بطور انفرادی نامزدگی۔ ان کے بقول، پارٹی اب ایک ایسا ماڈل اختیار کر رہی ہے جس کے تحت سیاسی کمیٹی کے ساتھ خصوصی اور اسپیشلائزڈ کمیٹیاں بھی تشکیل دی جائیں گی جو حکمت عملی بنانے میں معاون ہوں گی۔
لیک ہونے والی معلومات کے حوالے سے ایک سوال پر فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ کسی فرد کو اس بنیاد پر موردِ الزام ٹھہرانا درست نہیں۔ ان کے مطابق، ’’اگر آپ اپنے ممبرز پر ٹرسٹ نہیں کر سکتے تو یہ ایک افسوسناک صورتحال ہوتی ہے۔ ‘‘
عمران خان کی رہائی اور سیاسی حکمت عملی
شہزاد اقبال نے سوال اٹھایا کہ نئی سیاسی کمیٹی کی اصل حکمت عملی کیا ہو گی، خصوصاً عمران خان سے ملاقاتوں اور ان کی رہائی کے معاملے پر۔ فردوس شمیم نقوی نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ پارٹی کی تمام حکمت عملی کا محور پاکستان کی بہتری ہے۔ ان کے مطابق، ’’ہم پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہیں اور سیاسی استحکام کے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔ جب پولرائزیشن حد سے بڑھ جائے تو تمام فریقوں کو بیٹھ کر بات کرنی چاہیے۔ ‘‘
انہوں نے محمود خان اچکزئی کے پشاور جلسے میں دیے گئے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان کو آگے بڑھانا ہے تو تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ اسٹیبلشمنٹ کو بھی مذاکرات کا حصہ بننا ہو گا۔
9 مئی کے واقعات پر حکومتی بیانیے کے حوالے سے فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ پی ٹی آئی احتساب کے تصور سے پیچھے نہیں ہٹی۔ ان کے مطابق، ’’ہم نے احتساب کو اپنی سیاست کا بنیادی ستون بنایا ہے۔ اگر کسی نے غلط کیا ہے تو اس کا فیصلہ ہونا چاہیے، لیکن فیصلہ کسی ٹروتھ اینڈ ریکنسیلی ایشن کمیشن کے ذریعے ہونا چاہیے۔ ‘‘
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر ووٹر کو مسلسل دیوار سے لگایا گیا تو اس کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں۔
قومی کانفرنس اور دیگر جماعتوں سے رابطے
پروگرام میں قومی کانفرنس کے حوالے سے بھی بات کی گئی۔ فردوس شمیم نقوی نے بتایا کہ پی ٹی آئی کا ارادہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو اس کانفرنس میں مدعو کیا جائے، جن میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) بھی شامل ہیں۔ ان کے مطابق، ’’ہم نے خیبر پختونخوا میں تمام جماعتوں کو بلایا، سب نے اتفاق کیا۔ اب یہی ماڈل وفاقی سطح پر اپنانا چاہتے ہیں۔ ‘‘
انرجی سیکٹر کا بحران
پروگرام کے دوسرے حصے میں پاکستان کے انرجی سیکٹر، بالخصوص گیس اور پاور سیکٹر میں بڑھتے ہوئے گردشی قرضے پر تفصیلی بحث کی گئی۔ شہزاد اقبال نے بتایا کہ اس وقت گیس کے شعبے کا گردشی قرضہ 3300 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، جس میں سے 1700 ارب روپے کے قرضے کے خاتمے کے لیے مختلف تجاویز زیرِ غور ہیں۔
ان تجاویز میں پٹرولیم مصنوعات پر 5 روپے فی لیٹر اضافی لیوی، سرکاری اداروں کے منافع، اور اضافی ایل این جی کارگوز کی ڈائیورژن شامل ہیں۔ اس معاملے پر بات کرنے کے لیے پروگرام میں وفاقی وزیر برائے پٹرولیم علی پرویز ملک شریک ہوئے۔
علی پرویز ملک کی وضاحت
علی پرویز ملک نے وضاحت کی کہ پاور اور گیس سیکٹر کے گردشی قرضے کی نوعیت مختلف ہے۔ ان کے مطابق، ’’پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ براہِ راست حکومت کی ذمہ داری تھا، جبکہ گیس سیکٹر میں یہ ذمہ داری سوئی کمپنیوں کی ہے، جو مکمل طور پر حکومتی ملکیت میں نہیں ہیں۔ ‘‘
انہوں نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ ایک سال کے دوران گردشی قرضے کے فلو کو زیرو کرنے کی کوشش کی ہے اور اس بات کی تصدیق آئی ایم ایف نے بھی کی ہے۔ ان کے مطابق، اس وقت جو اضافہ ہو رہا ہے وہ زیادہ تر سود کی وجہ سے ہے۔
پٹرولیم لیوی میں اضافے کے سوال پر علی پرویز ملک نے واضح کیا کہ ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا اور یہ صرف زیرِ غور تجاویز میں شامل ہے۔ ان کے بقول، ’’یہ ایک آپشن ہے، حتمی فیصلہ کابینہ اور وزیر اعظم کریں گے۔ ‘‘
عوام پر بوجھ اور پالیسی سوالات
شہزاد اقبال نے نشاندہی کی کہ ملک میں صرف 23 سے 24 فیصد افراد کے پاس گیس کنکشن ہے، مگر لیوی کا بوجھ پوری عوام پر پڑے گا۔
اس پر علی پرویز ملک نے کہا کہ ماضی کے نقصانات کا کوئی نہ کوئی حل نکالنا ہو گا۔ ان کے مطابق، ’’ہم نے ایندھن خرید لیا ہے، استعمال کر لیا ہے، اب اس کی ادائیگی کرنی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیسے؟ ‘‘ انہوں نے بتایا کہ ایل این جی کارگوز کی ڈائیورژن سے ہونے والی بچت بھی محدود ہو گی اور اس سے تمام مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔
پروگرام کے اختتام پر شہزاد اقبال نے کہا کہ چاہے معاملہ سیاست کا ہو یا انرجی پالیسی کا، بنیادی سوال یہی ہے کہ ماضی کی پالیسیوں کی ذمہ داری کون لے گا اور مستقبل کے لیے کیا حکمت عملی اپنائی جائے گی۔ پروگرام میں زیرِ بحث تمام موضوعات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ملک اس وقت ایک نازک مرحلے سے گزر رہا ہے، جہاں سیاسی فیصلے اور معاشی پالیسی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
بشکریہ جیو نیوز













