بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی اووربلنگ، صارفین کو 8 ارب روپے سے زائد کا ٹیکہ

آڈیٹرز نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو بتایا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے اووربلنگ کے ذریعے 8 ارب روپے سے زائد وصول کیے ہیں۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) آڈیٹرز نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو بتایا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے اووربلنگ کے ذریعے صارفین سے 8 ارب روپے سے زائد وصول کیے۔

پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس شاہدہ اختر علی کی زیر صدارت ہوا، جس میں 2022-23 کے مالی سال کے لیے پاور ڈویژن کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔

آڈٹ حکام نے بتایا کہ صارفین سے ان یونٹس کے لیے چارج کیا گیا جو انہوں نے استعمال نہیں کیے، جس سے 8 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا۔ یہ اووربلنگ ہزار سے زائد فیڈرز پر پائی گئی۔

حکام نے مالی بے ضابطگیوں کی مجموعی رقم 8,727 ارب روپے بتائی اور کہا کہ 9.34 ارب روپے کی وصولی پہلے ہی ہو چکی ہے۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق چار ڈسکوز نے 9.14 ارب روپے کی غیر مجاز رقوم صارفین کو واپس کیں۔ آڈیٹرز نے پایا کہ 2018 سے 2023 کے درمیان 293,572 فعال صارفین نے سلیب یا ٹیرف ریلیف حاصل کیا، حالانکہ یہ ریلیف صرف منقطع صارفین کے لیے تھا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ میٹر ریڈرز اکثر اصل ریڈنگ لینے کے لیے سائٹس پر نہیں جاتے تھے۔

پاور ڈویژن کے سیکرٹری نے کمیٹی کو بتایا کہ آڈٹ کے دوران مطلوبہ دستاویزات دستیاب نہیں تھیں۔

دیگر متعلقہ خبریں