پاکستانی کنو کی برآمدات میں 50 فیصد کمی کی وجوہات اور مستقبل کی حکمت عملی

پاکستانی کنو کی برآمدات میں 50 فیصد کمی کی وجوہات میں تحقیق و ترقی کی کمی اور پرانی اقسام پر انحصار شامل ہیں، پی ایف وی اے نے مستقبل کی حکمت عملی پیش کی ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستانی برآمد کنندگان نے یکم دسمبر سے اب تک مشرق وسطیٰ، سری لنکا اور فلپائن کو تقریباً 6,000 ٹن کنو برآمد کیا ہے۔

آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپوٹرز، امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن (پی ایف وی اے) نے اس سیزن کے لیے کنو کی برآمدات کا ہدف 3 لاکھ ٹن مقرر کیا ہے، جس سے 110 ملین ڈالر کی آمدنی متوقع ہے۔ گزشتہ سیزن میں پاکستان نے 2.5 لاکھ ٹن کنو برآمد کیا تھا، جس سے 95 ملین ڈالر کی آمدنی ہوئی تھی۔

پی ایف وی اے کے سرپرستِ اعلیٰ وحید احمد نے کہا کہ اس سیزن میں کنو کی پیداوار 2.7 ملین ٹن تک پہنچنے کی توقع ہے جبکہ گزشتہ سیزن میں یہ 1.7 ملین ٹن تھی۔ پیداوار میں اضافے کے باوجود، پاکستانی کنو کی برآمدات پانچ سال پہلے کی 5.5 لاکھ ٹن کی برآمدات کے مقابلے میں 50 فیصد کم ہیں۔ انہوں نے اس کمی کی بنیادی وجہ ترشاوہ پھلوں کی کاشت میں تحقیق و ترقی کی کمی اور پرانی اقسام پر انحصار کو قرار دیا۔

وحید احمد نے ایک بیان میں کہا کہ پی ایف وی اے نے حکومت کو کنو کی برآمدات بڑھانے کے لیے قلیل مدتی، درمیانی مدتی اور طویل مدتی منصوبے پیش کیے ہیں۔ ان پر عمل درآمد کی صورت میں پاکستان اگلے پانچ سالوں میں کنو کی برآمدات کو 400 ملین ڈالر تک بڑھا سکتا ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں