کراچی یونیورسٹی نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری کو جعلی قرار دیا ہے، ہائر ایجوکیشن کمیشن نے بھی اس ڈگری کو تسلیم کرنے سے انکار کیا۔
کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) کراچی یونیورسٹی نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری کو جعلی قرار دے دیا ہے۔ جامعہ کے ناظم امتحانات نے بتایا کہ ڈگری اور مارک شیٹ میں نہ صرف انرولمنٹ نمبر بلکہ دیگر دستاویزات میں بھی جعلسازی کی گئی تھی۔
یونیورسٹی کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انرولمنٹ نمبر 5968/87 امتیاز احمد کے نام پر تھا، جبکہ طارق محمود نے ایل ایل بی پارٹ ٹو کے نمبر 7124/87 کو جعل سازی کے ذریعے استعمال کیا۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ شہری عرفان مظہر کی درخواست پر دوبارہ تحقیق کی گئی اور کنٹرولر امتحانات نے دوہرے انرولمنٹ نمبرز کو ناممکن قرار دیتے ہوئے ڈگری اور مارک شیٹس کو غلط قرار دیا۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے بھی اسلام آباد ہائی کورٹ میں مؤقف پیش کیا کہ ڈگری جاری کرنا یونیورسٹی کا اختیار ہے اور ایچ ای سی کا اس معاملے میں کوئی کردار نہیں بنتا۔ ایچ ای سی نے بھی اس ڈگری کو تسلیم کرنے سے انکار کیا۔
یاد رہے کہ جولائی 2024 میں سوشل میڈیا پر ایک خط گردش کر رہا تھا جو جامعہ کراچی کے کنٹرولر امتحانات کی طرف سے جاری کیا گیا تھا، جس میں طارق محمود کی قانون کی ڈگری کے حوالے سے شکوک و شبہات ظاہر کیے گئے تھے۔















