پاکستان نے کرپٹو کو ریگولیٹ کرنے کی حکمت عملی اپنائی، جس سے ترسیلات زر میں دو ارب ڈالر کی بچت ممکن ہے۔

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستان نے کرپٹو کو ریگولیٹ کرنے کے لیے نئی حکمت عملی اختیار کی ہے، جس سے ملک کو سالانہ ترسیلات زر میں دو ارب ڈالر کی بچت ہو سکتی ہے۔ ہر سال 30 ارب ڈالر سے زائد کی ترسیلات زر پاکستان واپس آتی ہیں، جو عموماً خلیجی ممالک، برطانیہ اور امریکہ میں محنت مزدوری کرنے والے پاکستانی بھیجتے ہیں۔
ترسیلات زر کے عمل میں تاخیر اور اضافی فیسوں کے مسائل ہمیشہ سے موجود رہے ہیں، مگر جولائی 2025 میں حکومت نے ورچوئل ایسٹس آرڈیننس نافذ کیا، جس کے تحت پاکستان ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PVARA) قائم کی گئی۔ اس سے کرپٹو کی سرگرمیوں کو قانونی دائرے میں لانے کی راہ ہموار ہو گئی۔
اب پاکستان میں کرپٹو کے ذریعے تیز اور کم لاگت ترسیلات ممکن ہو گئی ہیں۔ اس وقت ملک میں تقریباً 26 سے 27 ملین پاکستانی کرپٹو والٹس رکھتے ہیں، جو عالمی سطح پر کرپٹو اپنانے کے اعتبار سے اعلیٰ ترین درجہ پر ہیں۔
پاکستان نے 2018 میں کرپٹو پر پابندی عائد کی تھی، مگر 2025 میں ورچوئل ایسٹس آرڈیننس نے اس شعبے کو قانونی شکل دی۔ اس آرڈیننس کے تحت ایکسچینجز اور کسٹوڈینز کو لائسنس کے ذریعے کام کرنے کا موقع مل گیا۔
پاکستان کے لیے یہ ایک اہم لمحہ ہے، جس میں ملک مالیاتی آلات بنانے کے قابل ہو سکتا ہے جو دنیا بھر میں استعمال ہوں۔ اگر ملک نے درست اقدامات کیے تو ترسیلات زر کے اخراجات میں نمایاں کمی ممکن ہے۔














