FAFEN نے آئینی اصلاحات کے ذریعے مقامی حکومتوں کی مضبوطی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ آئین کی روح کو بروئے کار لایا جا سکے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (FAFEN) نے پارلیمنٹ سے آئینی ترمیم کے ذریعے مقامی حکومتوں کو مضبوط کرنےپر زور دیا ہے تاکہ آئین کے آرٹیکلز 7، 32 اور 140-A کی روح کو حقیقی طور پر واضح ہو سکیں۔
FAFEN کے تازہ ترین پالیسی بریف "عملی انحراف: پاکستان میں مؤثر اور جوابدہ مقامی حکومتوں کا قیام” کے مطابق، مقامی حکومتوں کی خودمختاری اور تسلسل کو یقینی بنانے کے لئے جامع اصلاحات کی ضرورت ہے۔ 18ویں ترمیم نے صوبوں کو وسیع اختیارات دیے، لیکن صوبوں نے مقامی حکومتوں کو سیاسی، انتظامی اور مالیاتی ذمہ داریوں کی منتقلی میں اس جذبے کا مظاہرہ نہیں کیا۔
FAFEN نے کہا کہ آئینی ضمانتوں کے باوجود قانونی ابہامات اور صوبائی کنٹرولز کی وجہ سے مقامی انتخابات میں تاخیر اور منتخب کونسلز کی قبل از وقت تحلیل ہوتی رہی ہے، جس سے نچلی سطح کی جمہوریت کمزور ہوئی ہے۔
FAFEN نے مقامی حکومتوں کو ریاست کا مستحکم اور خودمختار حصہ بنانے کے لیے اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔ تجویز کردہ اصلاحات میں بروقت انتخابات، صوبوں میں یکساں اختیارات، مالی خودمختاری، شفاف ضلعی حدود کی تبدیلی، اور دو تہائی اکثریت سے مقامی حکومتوں کے قوانین میں تبدیلی شامل ہیں۔
FAFEN نے مقامی حکومتوں کو آئینی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں مضبوط کرنے کے لیے آئینی تحفظات نہ دیے گئے تو وہ صوبائی کنٹرول کے تحت ہی رہیں گی۔















