وفاقی حکومت نے 27 ویں آئینی ترمیم پر مشاورت شروع کی ہے جو آئین کے اہم خدوخال کو متاثر کر سکتی ہے، جبکہ آئینی عدالت کے قیام پر اتفاق رائے ہونے کا امکان ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) وفاقی حکومت نے 26 ویں آئینی ترمیم کے کامیاب تجربے کے بعد 27 ویں آئینی ترمیم پر مشاورت شروع کر دی ہے جو آئین کے اہم خدوخال کو متاثر کر سکتی ہے۔
سابق پیپلز پارٹی سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کہا ہے کہ 27 ویں ترمیم کا بنیادی مقصد آرٹیکل 243 میں ترمیم ہے، جو مسلح افواج کی کمان اور سروسز چیفس کی تقرری سے متعلق ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کے اندر وفاقی آئینی عدالت کے قیام پر تقریباً اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے محقق یاسر قریشی نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان دیگر پہلوؤں پر اختلافات ہو سکتے ہیں لیکن عدلیہ کو تقسیم کرنے پر ممکنہ اتفاق کا امکان ہے۔
کچھ وکلا کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے اندر آئینی بنچ کا تجربہ کامیاب رہا ہے، تاہم وفاقی آئینی عدالت میں جج کی تقرری کے بعد وہ اپنی ریٹائرمنٹ تک عہدے پر برقرار رہے گا۔
ایڈووکیٹ حافظ احسان کھوکھر نے کہا کہ آئینی ترمیم کے لیے اتفاق رائے پر مبنی اصلاحات کی ضرورت ہے اور انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں کو ایک وسیع قومی مکالمے میں شامل کرنے کی تجویز دی ہے۔














