41 ہزار آبادی والا یورپی ملک دنیا کے امیر ترین ممالک میں کیسے شامل ہو گیا؟

ہر صبح سورج الپس کی برف پوش چوٹیوں کے پیچھے سے نکلتا ہے تو سوئٹزرلینڈ اور آسٹریا کی سرحدوں پر گاڑیوں کی قطاریں بننا شروع ہو جاتی ہیں۔ ہزاروں افراد ایک ایسے ملک میں داخل ہوتے ہیں جسے پیدل چند گھنٹوں میں ایک طرف سے دوسری طرف عبور کیا جا سکتا ہے۔ یہ افراد شام تک اس ملک کی فیکٹریوں، بینکوں، اسپتالوں، دفتروں اور کاروباری اداروں میں کام کرتے ہیں اور پھر سرحد پار اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔

حیرت اس بات پر نہیں کہ لوگ روزگار کے لیے دوسرے ملک جاتے ہیں۔ حیرت یہ ہے کہ جس ملک میں وہ جا رہے ہیں، اس کی مستقل آبادی تقریباً 41 ہزار ہے، جبکہ وہاں موجود ملازمتوں کی تعداد 43 ہزار سے بھی زیادہ ہے۔یعنی اس ملک نے اپنے ہر باشندے کے لیے ایک ملازمت پیدا کرنے کے بعد بھی دروازے پر یہ تختی لگا رکھی ہے، مزید کارکن درکار ہیں۔اس ننھی سی ریاست کا نام لیختن شٹائن ہے۔

سوئٹزرلینڈ اور آسٹریا کے درمیان الپس کے دامن میں واقع لیختن شٹائن کا رقبہ صرف 160 مربع کلومیٹر ہے۔ یہ پاکستان کے کسی بڑے شہر کا ایک محدود حصہ محسوس ہوتا ہے۔ اس کے دارالحکومت وادوز کی آبادی چھ ہزار کے قریب ہے اور پورا ملک صرف گیارہ بلدیاتی علاقوں پر مشتمل ہے۔اس ملک کے پاس نہ سمندر ہے، نہ ہوائی اڈہ، نہ تیل کے ذخائر، نہ قدرتی گیس کے بڑے میدان اور نہ کروڑوں صارفین پر مشتمل کوئی داخلی منڈی۔ یہاں تک کہ اس کی اپنی الگ کرنسی بھی نہیں۔ایک صدی سے زیادہ عرصے سے سوئس فرانک یہاں قانونی زرِمبادلہ ہے۔ مستقل فوج بھی 1868 میں ختم کر دی گئی تھی۔

معاشیات کے روایتی تصورات کے مطابق ایسا ملک کمزور، محتاج اور غیر مؤثر ہونا چاہیے تھا۔ مگر لیختن شٹائن کی کہانی یہ بتاتی ہے کہ کسی ریاست کی اصل جسامت اس کے نقشے سے نہیں، اس کے اداروں، مہارت اور پیداواری صلاحیت سے ناپی جاتی ہے۔

چھوٹا ملک، اربوں کی معیشت

لیختن شٹائن کی مجموعی قومی پیداوار 2023 میں تقریباً 7.4 ارب سوئس فرانک تھی۔ عالمی بینک کے مطابق 2023 میں اس کی فی کس مجموعی پیداوار تقریباً دو لاکھ آٹھ ہزار امریکی ڈالر تھی، جو دنیا کی بلند ترین سطحوں میں شمار ہوتی ہے۔

2023 میں لیختن شٹائن میں 43 ہزار 162 ملازمتیں تھیں۔ ان میں تقریباً 65 فیصد خدمات، 34 فیصد صنعت اور ایک فیصد سے بھی کم زراعت سے وابستہ تھیں۔ صنعتی روزگار کا یہ تناسب سوئٹزرلینڈ، آسٹریا اور جرمنی سے بھی زیادہ تھا۔یہی وہ حقیقت ہے جو لیختن شٹائن کو محض بینکوں اور کم ٹیکسوں والی ریاست کے عمومی تصور سے علیحدہ کر دیتی ہے۔

یہاں اعلیٰ معیار کے تعمیراتی آلات، مشینی پرزے، دانتوں کے طبی آلات، ویکیوم ٹیکنالوجی، برقی مصنوعات اور انتہائی درست انجینئرنگ کا سامان تیار ہوتا ہے۔ لیختن شٹائن کا معاشی ماڈل سستی مزدوری یا خام مال کی برآمد کے بجائے ایسی مخصوص مصنوعات پر قائم ہے جن میں علم، تحقیق اور تکنیکی مہارت زیادہ شامل ہوتی ہے۔

مالیاتی شعبہ بھی اہم ہے اور عالمی مالیاتی فنڈ کے مطابق معیشت کا تقریباً پانچواں حصہ پیدا کرتا ہے، مگر ملکی صنعت ثابت کرتی ہے کہ اس کی خوشحالی صرف بینکاری کی مرہونِ منت نہیں۔

تعلیم، ہر طالب علم کو ملک کے اندر روکنا ضروری نہیں

چھوٹے ملک کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ہر یونیورسٹی، ہر شعبہ اور ہر تعلیمی ادارہ اپنی سرحد کے اندر تعمیر کرے۔ لیختن شٹائن نے تعلیم میں ایک مختلف راستہ اختیار کیا ہے۔
ابتدائی اور زیریں ثانوی سطح پر ملک کے اندر وسیع تعلیمی سہولتیں موجود ہیں، جبکہ اعلیٰ تعلیم کے لیے سوئٹزرلینڈ، آسٹریا اور جرمنی کے اداروں سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ تعلیمی سال 2022-23 میں لیختن شٹائن کے تقریباً 1,200 طلبہ بیرونِ ملک اعلیٰ یا فنی تعلیم حاصل کر رہے تھے، ان میں 72 فیصد سوئٹزرلینڈ، 15 فیصد آسٹریا اور پانچ فیصد جرمنی میں زیرِ تعلیم تھے۔

اس نظام کی خوبی یہ ہے کہ ملک تعلیم کوموجود عمارتوں کی تعداد سے نہیں ناپتا۔بلکہ ایک چھوٹی ریاست ہر مضمون کی الگ یونیورسٹی بنانے کے بجائے اپنے طلبہ کو ہمسایہ ممالک کے معیاری اداروں تک رسائی دیتی ہے۔ساتھ ہی پیشہ ورانہ تعلیم اس کی صنعتی معیشت سے براہِ راست جڑی ہوئی ہے۔ 2022-23 میں ایک ہزار سے زیادہ نوجوان مختلف کاروباری اداروں میں عملی تربیت یا اپرنٹس شپ حاصل کر رہے تھے۔ یہ وہ نظام ہے جس میں طالب علم صرف کتاب سے مشین کا خاکہ نہیں پڑھتا بلکہ فیکٹری میں اسے چلانا بھی سیکھتا ہے۔

پاکستان جیسے معاشروں میں یونیورسٹی کی ڈگری کو اکثر کامیابی کا واحد راستہ سمجھا جاتا ہے، جبکہ ہنرمند فنی کارکن کو سماجی طور پر کمتر نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ لیختن شٹائن کا تجربہ اس کے برعکس ہے۔ وہاں فنی تعلیم، صنعت اور روزگار ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں۔تعلیم کا مقصد صرف سند تقسیم کرنا نہیں بلکہ ایسی قابلیت پیدا کرنا ہے جسے معیشت واقعی استعمال کر سکے۔

صحت، علاج ریاستی نظام کا حصہ

لیختن شٹائن میں لازمی صحت بیمہ 1971 سے سماجی تحفظ کے نظام کا حصہ ہے۔ کم آمدنی والے افراد کے لیے بیمہ پریمیم میں رعایت کا بندوبست بھی موجود ہے۔ صحت کی خدمات صرف ملکی اداروں تک محدود نہیں بلکہ سوئٹزرلینڈ اور آسٹریا کے قریبی طبی مراکز سے بھی جڑی ہوئی ہیں۔اس نظام کا نتیجہ محض خوبصورت اسپتالوں کی صورت میں نہیں بلکہ انسانی عمر میں بھی نظر آتا ہے۔ دستیاب عالمی اعداد کے مطابق 2023 میں لیختن شٹائن میں اوسط متوقع عمر تقریباً 83.6 برس تھی، جو عالمی اوسط سے کہیں زیادہ ہے۔

یہاں ایک بات سمجھنا ضروری ہے۔ صحت مند معاشرہ صرف ڈاکٹر اور دوا سے نہیں بنتا۔ صاف ماحول، محفوظ سڑکیں، بہتر خوراک، مستحکم روزگار، سماجی تحفظ اور نسبتاً کم معاشی بے یقینی بھی انسانی عمر بڑھانے میں کردار ادا کرتے ہیں۔لیختن شٹائن میں بیماری کا علاج صحت کے نظام کا ایک حصہ ہے، پورا نظام نہیں۔ اصل کوشش یہ ہے کہ شہری بیماری، بے روزگاری یا بڑھاپے کی صورت میں مکمل طور پر تنہا نہ رہ جائے۔

مہنگائی کم، مگر زندگی سستی نہیں

لیختن شٹائن کا نام سنتے ہی یہ تاثر پیدا ہو سکتا ہے کہ شاید وہاں ہر چیز سستی ہوگی۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اگر آپ وادوز میں ایک اپارٹمنٹ کرائے پر لینا چاہیں، کسی ریستوران میں کھانا کھائیں یا روزمرہ خدمات حاصل کریں تو قیمتیں پاکستان ہی نہیں، یورپ کے کئی دوسرے ممالک کے مقابلے میں بھی زیادہ محسوس ہوں گی۔ محدود رقبہ، رہائش کی کم دستیابی، بلند اجرتیں اور سوئٹزرلینڈ سے جڑی معیشت نے زندگی گزارنے کی لاگت کو خاصا بلند رکھا ہے۔

لیکن خوشحالی کا تعلق صرف اس بات سے نہیں کہ چیزیں کتنی مہنگی ہیں، بلکہ اس سے بھی ہے کہ ان کی قیمتیں کتنی تیزی سے بدلتی ہیں اور لوگوں کی آمدن ان کا ساتھ دے رہی ہے یا نہیں۔

اسی لیے لیختن شٹائن میں بلند قیمتوں کے باوجود معاشی بے چینی نسبتاً کم دکھائی دیتی ہے۔ 2022 میں اوسط ماہانہ مجموعی تنخواہ 7,042 سوئس فرانک تھی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شہری یکساں آمدن رکھتا ہے، لیکن مجموعی طور پر اجرتوں کی سطح اتنی ہے کہ لوگ اپنی بنیادی ضروریات، رہائش، صحت اور تعلیم کے اخراجات برداشت کر سکیں۔
اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ وہاں مہنگائی کی رفتار انتہائی سست ہے۔ 2025 میں پورے سال کے دوران اوسط افراطِ زر صرف 0.2 فیصد رہی، جبکہ مئی 2026 میں ایک سال پہلے کے مقابلے میں قیمتوں میں 0.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس عرصے میں کرایوں، پھل، سبزیوں، ہوٹلوں اور پیٹرول کی قیمتیں کچھ بڑھیں، مگر دوسری جانب ہوائی سفر اور حرارتی تیل نسبتاً سستے ہوئے۔ یعنی قیمتوں میں تبدیلی آتی ضرور ہے، مگر وہ اتنی محدود ہوتی ہے کہ لوگوں کی روزمرہ زندگی کو غیر متوقع انداز میں متاثر نہیں کرتی۔

اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ خاندان مستقبل کی منصوبہ بندی اعتماد سے کر سکتے ہیں۔ اگر کوئی جوڑا آج گھر خریدنے کے لیے قرض لیتا ہے، والدین بچوں کی یونیورسٹی کی تعلیم کے لیے بچت شروع کرتے ہیں یا کوئی نوجوان اپنا کاروبار قائم کرنے کا فیصلہ کرتا ہے، تو انہیں یہ یقین ہوتا ہے کہ چند ماہ بعد قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ان کے تمام حساب کتاب کو الٹ نہیں دے گا۔ معاشی استحکام دراصل یہی احساسِ تحفظ پیدا کرتا ہے۔

اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ لیختن شٹائن کے شہریوں کو معاشی مسائل کا سامنا نہیں۔ محدود زمین کی وجہ سے رہائش اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے، اور برآمدات پر انحصار کرنے والی اس معیشت کو عالمی کساد بازاری یا سوئس فرانک کی قدر میں بڑے اتار چڑھاؤ سے نقصان پہنچ سکتا ہے۔ لیکن فرق یہ ہے کہ یہاں لوگ اپنی آمدن سے زیادہ غیر یقینی صورتحال سے پریشان نہیں رہتے۔

شاید اسی لیے لیختن شٹائن کی اصل دولت صرف بلند تنخواہیں نہیں، بلکہ وہ اعتماد ہے جو شہری کو یہ یقین دلاتا ہے کہ اگر وہ آج کوئی معاشی فیصلہ کرے تو ریاست کی پالیسی، قیمتوں کا عمومی رجحان اور معیشت کا استحکام کل اس فیصلے کو اچانک بے معنی نہیں بنا دیں گے۔ یہی اعتماد کسی بھی مضبوط معیشت کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتا ہے۔

جہاں بے روزگاری کی شرح سے زیادہ کارکنوں کی کمی مسئلہ ہے

لیختن شٹائن میں 2023 کی اوسط بے روزگاری صرف 1.4 فیصد تھی اور سال کے اختتام پر سرکاری طور پر 300 افراد بے روزگار رجسٹرڈ تھے۔

عالمی مالیاتی فنڈ نے بھی اس کی لیبر مارکیٹ کو انتہائی محدود یا سخت قرار دیا ہے، یعنی کاروباری اداروں کے لیے مناسب کارکن تلاش کرنا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ دوسری طرف ریاست کے مالی ذخائر مضبوط اور عوامی قرض تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔

یہ کوئی جنت نہیں۔ اس کی کامیابی میں یورپی منڈیوں تک آسان رسائی، سوئٹزرلینڈ سے گہرا تعلق، محدود آبادی، سیاسی استحکام اور مخصوص تاریخی حالات کا بڑا کردار ہے۔ چالیس ہزار آبادی والے ملک کا انتظام 24 کروڑ لوگوں کی ریاست کے مقابلے میں یقیناً آسان ہے۔

لیکن چھوٹا ہونا خود بخود کامیابی کی ضمانت بھی نہیں۔ دنیا میں کم آبادی والی کئی ریاستیں غربت، بدعنوانی اور کمزور اداروں کا شکار ہیں۔ لیختن شٹائن نے اپنے چھوٹے حجم کو کمزوری کے بجائے انتظامی برتری میں تبدیل کیا ہے۔

اس نے ہر چیز خود پیدا کرنے کی ضد نہیں کی۔ کرنسی سوئٹزرلینڈ سے جوڑ لی، اعلیٰ تعلیم کے لیے ہمسایہ ممالک کے ادارے استعمال کیے، یورپی منڈی تک رسائی حاصل کی اور اپنی توانائی چند مخصوص شعبوں میں عالمی معیار پیدا کرنے پر لگا دی۔

نقشے کا نقطہ، ریاست کا سبق

شام ڈھلتی ہے تو وہی ہزاروں گاڑیاں لیختن شٹائن سے نکل کر سوئٹزرلینڈ اور آسٹریا کی جانب لوٹنے لگتی ہیں۔ ملک کی سڑکیں پھر خاموش ہو جاتی ہیں، مگر فیکٹریوں میں بننے والے آلات، بینکوں میں سنبھالا جانے والا سرمایہ اور اس کے اداروں پر قائم اعتماد دنیا کے مختلف حصوں کی طرف سفر جاری رکھتا ہے۔

لیختن شٹائن کا سب سے حیران کن عدد اس کی دو لاکھ ڈالر سے زیادہ فی کس پیداوار نہیں، نہ 0.2 فیصد مہنگائی اور نہ ہی 1.4 فیصد بے روزگاری ہے۔

اصل حیرت یہ ہے کہ ایک ریاست، جس کے پاس زمین اور لوگ دونوں کم ہیں، اس نے اپنے شہریوں کے لیے تعلیم، صحت، روزگار اور معاشی استحکام کو کتنا اہم بنا دیا۔
ہم اپنے مسائل کے لیے اکثر آبادی، وسائل کی کمی، جغرافیہ اور تاریخ کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔مگر کیا ہم سوچتے ہیں کہ کے پاس جو کچھ موجود ہے، کیا اسے واقعی قابلیت، دیانت اور تسلسل کے ساتھ استعمال کیا جا رہا ہے؟

نقشے پر لیختن شٹائن ایک چھوٹا سا نقطہ ہے، لیکن ریاست چلانے کے فن پر اس کا سوال دنیا کے بہت سے بڑے ممالک سے کہیں بڑا ہے۔

محمد اکمل خان اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ایک ڈاکومینٹری فلم پروڈیوسر ہیں، جو ماحولیاتی تبدیلی، علاقائی تنازعات، دہشت گردی، توانائی، سماجی مسائل اور سیاحت کے موضوعات پر لکھتے ہیں۔