سعودی عرب اور امریکا کے سول جوہری معاہدے پر اسرائیلی اپوزیشن کی مخالفت، نیتن یاہو کی خاموشی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
تل ابیب: (رائیٹ ناؤ نیوز) امریکا اور سعودی عرب کے ممکنہ سول جوہری معاہدے پر اسرائیلی اپوزیشن نیتن یاہو کی خاموشی پر ناراض ہوگئی ہے۔ اپوزیشن نے اس معاہدے کو اسرائیل کے لئے اسٹریٹیجک تباہی قرار دیا ہے۔
سابق وزیر دفاع اویگدور لائیبرمین نے کہا ہے کہ یہ معاہدہ ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو اس معاہدے کی بھرپور مخالفت کرنی چاہیے، کیونکہ اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہوسکتی ہے۔
لائیبرمین نے مزید کہا کہ سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت دینا سرخ لکیر کو عبور کرنے کے مترادف ہے۔ معاہدے کی مدت 30 سال بتائی جا رہی ہے جس میں سعودی عرب کو جوہری ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
سابق وزیراعظم ایہود باراک نے کہا کہ اس معاہدے میں سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی کوئی شرط شامل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ نیتن یاہو اور ٹرمپ کے درمیان اعتماد کی کمی کی علامت ہے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ سول جوہری پروگرام کے معاہدے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ اس معاہدے کی مدت 30 سال ہوگی اور سعودی عرب کو جوہری ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔













