اسمارٹ فونز کے بچوں کی صحت پر ممکنہ منفی اثرات، تحقیق میں انکشاف

تحقیق کے مطابق، 12 سال سے کم عمر بچوں کو اسمارٹ فونز دینے سے موٹاپے، ڈپریشن اور نیند کے مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ 12 سال سے کم عمر بچوں کو اسمارٹ فونز فراہم کرنے سے ان میں موٹاپے، ڈپریشن اور نیند کے مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ تحقیق کے مطابق، اسمارٹ فونز کی ملکیت بچوں کی جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

تحقیق جرنل پیڈیاٹرکس میں شائع ہوئی جس میں 12 سال یا اس سے کم عمر کے 10 ہزار سے زائد بچوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔ محققین نے نتیجہ اخذ کیا کہ اسمارٹ فونز بچوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں اور 13 سال کی عمر سے قبل ان کے استعمال کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ اسمارٹ فونز کے مالک بچے دوستوں کے ساتھ کھیلنے، ورزش کرنے اور سونے کے لیے کم وقت نکالتے ہیں، جس سے ان کی جسمانی اور ذہنی صحت متاثر ہو سکتی ہے۔

مزید برآں، اسکرین کے سامنے زیادہ وقت گزارنے والے بچوں میں دل اور میٹابولک امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ایک اور تحقیق کے مطابق، 13 سال سے کم عمر بچوں میں اسمارٹ فونز کے استعمال سے دماغی صحت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں