پاکستان نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت 17 میں سے 13 اہداف مکمل کر لیے، مئی 2026 میں 1.2 ارب ڈالر کی قسط کی منظوری متوقع۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستان نے آئی ایم ایف قرض پروگرام کے تحت دسمبر 2025 تک 17 میں سے 13 اہداف پورے کر لیے ہیں۔ تاہم، 2 اہداف مکمل نہ ہو سکے اور 2 کے حوالے سے ڈیٹا فراہم نہیں کیا جا سکا۔
ایف بی آر ریٹیلرز سے انکم ٹیکس وصولیوں اور 5 لاکھ نئے ٹیکس فائلرز کے ہدف کا ڈیٹا فراہم کرنے میں ناکام رہا۔ آئی ایم ایف عملے نے اپنی رپورٹ ایگزیکٹو بورڈ کو پیش کر دی ہے، جس کی بنیاد پر مئی 2026 میں 1.2 ارب ڈالر کی چوتھی قسط کی منظوری متوقع ہے۔
سٹیٹ بینک کے خالص بین الاقوامی ذخائر کا ہدف کامیابی سے حاصل کر لیا گیا، جبکہ مرکزی بینک کے نیٹ ڈومیسٹک اثاثوں کی حد اور حکومت کے بنیادی بجٹ خسارے کی حد بھی مقررہ ہدف کے اندر رہیں۔
حکومت نے مالیاتی اہداف کے حصول کیلئے مزید 17 اہداف کی جون 2026 تک ڈیڈ لائن مقرر کی ہے۔ بجٹ خسارہ 3 ہزار 156 ارب روپے تک محدود رکھنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔
واضح رہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پاکستان نے اہم اہداف پورے کیے ہیں جو پروگرام کے تسلسل کیلئے مثبت اشارہ ہے، تاہم ٹیکس وصولیوں میں مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔















