جاپانی وزیراعظم کے تائیوان کے حوالے سے بیان کو بیجنگ نے اپنے داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیا

جاپان کی وزیر کے تائیوان سے متعلق بیان نے مشرقی ایشیا میں کشیدگی بڑھا دی، چین کا سخت ردعمل اور جاپان کی اسٹریٹجک ابہام کی پالیسی متاثر ہوئی ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

ٹوکیو: (رائیٹ ناوٴ نیوز)جاپان کی وزیر اعظم سنانیے تکائیچی کے تائیوان سے متعلق بیان نے مشرقی ایشیا میں سیکیورٹی صورتحال کو کشیدہ کر دیا ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے چین کی جانب سے تائیوان پر ممکنہ حملہ کو جاپان کی بقا کے لئے خطرہ قرار دیا ہے۔ تکائیچی نے واضح کیا کہ تائیوان پر چینی کارروائی اسی زمرے میں آئے گی، جس سے جاپان کی اسٹریٹجک ابہام کی پالیسی متاثر ہوئی ہے۔

بیجنگ نے ان بیانات کو داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے جاپان کو نتائج بھگتنے کی تنبیہ دی ہے۔ جاپان میں بھی رائے منقسم ہے۔ ایک سروے کے مطابق 48.8 فیصد شہری تائیوان مسئلہ پر   پر حمایت کرتے ہیں جبکہ 44.2 فیصد مخالفت کرتے ہیں۔

تکائی چی نے دفاعی اخراجات بڑھانے اور اسلحہ برآمدات کے قوانین نرم کرنے کی تجویز دی ہے، جس سے جاپان دفاع سے طاقت کے اظہار کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔

چین کے سرکاری میڈیا نے ان بیانات کو جارحانہ قرار دیا اور کہا کہ تائیوان جاپان سے قریب نہیں۔ جاپان کی اس پالیسی پر اندرونِ ملک بھی بحث جاری ہے۔ امریکہ بھی اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر جاپان نے تائیوان کو اپنی بقا سے جوڑنے والی پالیسی کو اپنایا تو چین کے ساتھ تعلقات میں تناؤ بڑھ سکتا ہے۔ جاپان کی پرامن شناخت ایک امتحان سے گزر رہی ہے اور غلط حکمتِ عملی سے خطہ بڑے تصادم کے قریب جا سکتا ہے۔


دیگر متعلقہ خبریں