نئی دہلی میں اے آئی سمٹ کے دوران چینی روبوٹک کتے کی نمائش پر تنازعہ کھڑا ہوگیا جبکہ سمٹ کے ناقص انتظامات پر بھی شدید تنقید کی گئی۔
نئی دہلی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) نئی دہلی میں منعقدہ اے آئی سمٹ میں گالگوٹیاس یونیورسٹی کی جانب سے پیش کیے گئے روبوٹک کتے کی حقیقت سامنے آ گئی۔
بھارتی دارالحکومت میں ہونے والے اس سمٹ کا مقصد ہندوستان کے تکنیکی عزائم کو اجاگر کرنا تھا، مگر ایک تنازعہ نے جنم لیا جب روبوٹک کتے کی شناخت چینی ساختہ کے طور پر ہوئی۔
یونیورسٹی کے نمائندوں نے انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ کے دوران روبوٹک کتے کو اپنے اے آئی ماحولیاتی نظام کے حصے کے طور پر پیش کیا۔ پروفیسر نیہا سنگھ نے روبوٹ کے ممکنہ استعمال پر روشنی ڈالی، مگر سوشل میڈیا پر صارفین نے اس کی شناخت چینی ماڈل کے طور پر کی۔
یونیورسٹی نے وضاحت کی کہ روبوٹ کو اپنی ایجاد کے طور پر پیش نہیں کیا گیا تھا۔ دوسری جانب سمٹ میں ناقص انتظامات کی وجہ سے بھی تنقید کی گئی، جہاں شرکاء کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔















