سوشل میڈیا پر اے آئی ٹولز سے بنے فلمی ٹریلرز وائرل ہو رہے ہیں جو حقیقی مناظر کی طرح دکھائی دیتے ہیں۔
کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں جو حقیقی فلمی مناظر اور مصنوعی ذہانت کے شاہکار کے درمیان فرق کرنا مشکل بنا رہی ہیں۔ Seedance 2.0 نامی اے آئی ٹول کے ذریعے صارفین فلمی اور اشتہاری ٹریلرز تیار کر رہے ہیں جو کسی بڑے پروڈکشن ہاؤس کا کام محسوس ہوتے ہیں۔
ان اے آئی جنریٹڈ ٹریلرز میں سنیما جیسی ویژول کوالٹی، کیمرہ اینگلز، بیک گراؤنڈ میوزک، وائس اوور اور مکالمے شامل ہیں جو حقیقت کے قریب تر ہیں۔ مشہور فلموں کے فرضی سیکوئلز یا خیالی کاسٹنگ کے ساتھ یہ ویڈیوز دیکھنے والوں کو حیران کر رہی ہیں۔
ڈیجیٹل کریئیٹرز کا کہنا ہے کہ Seedance 2.0 نے ویڈیو پروڈکشن کے عمل کو بدل دیا ہے۔ جہاں پہلے بڑی ٹیم، کیمرہ ورک، لوکیشن اور بجٹ درکار ہوتا تھا، اب چند منٹوں میں مکمل ٹریلر تیار کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی اشتہارات، میوزک ویڈیوز اور سوشل میڈیا کیمپینز کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔
تاہم، اس ٹیکنالوجی نے کاپی رائٹ، ڈیپ فیک اور فنکاروں کے روزگار کے حوالے سے سوالات جنم دیے ہیں۔ بعض حلقے اسے تخلیقی آزادی کا نیا دور کہتے ہیں جبکہ کچھ اسے روایتی فلم سازی کے لیے چیلنج سمجھتے ہیں۔















