گوہر اعجاز نے پاکستانی معیشت کو وینٹیلیٹر پر قرار دیا، بلند شرح سود اور مہنگی توانائی صنعتوں کی مشکلات میں اضافہ کر رہی ہیں۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) چیئرمین ایکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ پاکستانی معیشت کو گذشتہ تین سال سے وینٹیلیٹر پر رکھا گیا ہے۔ حکومت نے معاشی استحکام کی کوشش کی، لیکن اس دوران ملکی معاشی شرح نمو صرف 2 فیصد رہی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ڈالر کی قیمت 160 روپے سے بڑھ کر 280 روپے تک جا پہنچی ہے، جب کہ ملکی برآمدات 30 ارب ڈالرز سے آگے نہیں بڑھ سکیں۔ کرنسی ڈی ویلیوایشن کے باوجود برآمدات میں اضافہ نہیں ہوا۔
گوہر اعجاز نے کہا کہ معاشی مسائل کا حل ملکی صنعتوں کو علاقائی نرخوں پر توانائی فراہم کرنا ہے، لیکن بجلی اور گیس کی قیمتیں علاقائی ممالک سے کئی گنا زیادہ ہیں۔ صنعتوں کے لیے شرح سود اور ٹیکسز دوگنے ہیں۔
انہوں نے چین اور انڈیا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان ممالک نے پالیسی ریٹ 5 فیصد سے کم رکھا ہے جبکہ پاکستان میں اسٹیٹ بینک نے شرح سود 11 فیصد پر برقرار رکھی ہے۔ بلند شرح سود کی وجہ سے صنعتیں عالمی منڈی میں مقابلہ نہیں کر پا رہیں۔
گوہر اعجاز نے تجویز دی کہ صنعتوں کے لیے بجلی کا نرخ 9 سینٹ فی یونٹ مقرر کیا جائے، ٹیکسوں کی شرح کو کم کر کے 20 فیصد پر لایا جائے، اور اسٹیٹ بینک شرح سود کو 6 فیصد پر لائے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے حکومت کو سود کی ادائیگیوں میں سالانہ 3 ٹریلین روپے کی بچت ہوگی۔















