یمن میں حوثیوں اور حکومتی فورسز کے درمیان شدید جھڑپوں نے دوبارہ کشیدگی کو بڑھا دیا ہے۔ المخا بندرگاہ کی اہمیت اور متاثرہ علاقوں میں شہریوں کی نقل مکانی کے باعث صورتحال مزید بگڑنے کا خدشہ ہے۔
یمن: (رائیٹ ناؤنیوز) یمن میں حوثی ملیشیا اور حکومتی سیکیورٹی فورسز کے درمیان شدید لڑائی شروع ہوگئی ہے۔ تعز اور حدیدہ کے علاقوں میں جھڑپوں میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔
حوثی ذرائع کا کہنا ہے کہ تعز اور حدیدہ کے درمیان مختلف محاذوں پر شدید جھڑپیں جاری ہیں۔ حکومتی فورسز کے مطابق مغربی تعز میں حوثیوں نے اچانک حملے شروع کیے ہیں، جس کے بعد حملوں میں میزائل اور ڈرون کا استعمال بھی کیا گیا۔
یمنی فوج کے مطابق حوثیوں نے 14 بیلسٹک میزائل داغے ہیں اور تعز کے مختلف مقامات پر درجنوں ڈرون حملے کیے ہیں۔ حکومتی فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے حوثیوں کو پسپائی پر مجبور کردیا ہے۔
المخا بندرگاہ حکومتی فورسز کے لیے رسد کا اہم راستہ ہے۔ حوثیوں کا مقصد تعز کو بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں سے کاٹنا ہے تاکہ ان کی رسد کی راہ میں رکاوٹ پیدا کی جاسکے۔
واضح رہے کہ یمن میں 2014 سے حوثیوں اور حکومت کے درمیان جاری جنگ میں متعدد بار کشیدگی بڑھی ہے۔ حالیہ جھڑپوں میں 100 سے زائد ہلاکتوں کی خبریں موصول ہوئی ہیں، لیکن آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔














