پمز سانحہ کی رپورٹ میں بچوں کو بچانے کی کوششوں کی تصدیق، سکیورٹی اور فائر سیفٹی مسائل کا انکشاف۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناؤ نیوز) پمز ہسپتال میں بچوں کو بچانے کی کوششیں کامیاب ثابت ہوئیں۔ سی سی ٹی وی فوٹیج سے ڈاکٹرز، نرسز اور سکیورٹی اہلکاروں کی کوششیں نظر آئیں۔ آگ کی حتمی وجہ تاحال معلوم نہ ہو سکی۔
تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ فائر ایگزٹس بند یا رکاوٹ زدہ تھے۔ فائر فائٹرز کو دروازے توڑنے پڑے۔ پمز میں فائر اور لائف سیفٹی انتظامات ناکافی قرار دیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق، 6 بجکر 38 منٹ پر آگ لگی اور 2 منٹ میں نرسری کا ماحول خراب ہو گیا۔ چارج نرس نسرین نے مدد کی درخواست کی۔ ڈاکٹرز اور نرسنگ سٹاف نے بچوں کو بچانے کی کوشش کی۔
سٹاف نرس رضیہ نے جلتی نرسری سے نومولود کو نکالا۔ آئیسکو ریکارڈ میں بجلی خرابی یا ٹرپنگ کا ثبوت نہیں ملا۔ سکیورٹی اور فائر سیفٹی سسٹم میں مسائل تھے۔
یاد رہے کہ ہسپتال کی سکیورٹی کمپنی ناکام رہی۔ کمیٹی نے چارج نرس نسرین اور سکیورٹی گارڈ ماریہ کو ڈیوٹی سے ہٹانے کی سفارش کی۔















