ایران نے امریکی اڈوں پر میزائل حملے کیے، ویڈیو منظر عام پر آ گئی۔ کشیدگی میں اضافہ، عالمی برادری کی تشویش۔
تہران: (رائیٹ ناؤ نیوز) ایران نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے کیے، جس کی ویڈیو منظر عام پر آ گئی ہے۔ ان حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی حملے جاری رہے تو سخت جواب دیا جائے گا۔ ترجمان وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا کہ مسلح افواج دفاع میں ہچکچاہٹ نہیں دکھائیں گی۔
اسماعیل بقائی کے مطابق امریکا متضاد پیغامات اور بدلتے مطالبات سے مذاکرات متاثر کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں سفارت کاری کے لیے نقصان دہ ہیں۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے جَسک اور سیریک پر امریکی حملوں کی تصدیق کی ہے۔ بیان کے مطابق سیریک میں ایک مواصلاتی ٹاور بھی متاثر ہوا ہے۔
پاسداران انقلاب کے مطابق خطے میں امریکی اثاثوں اور اڈوں پر ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔ ایرانی بحری فورسز نے بھی امریکی اثاثوں کے خلاف کارروائیوں کی اطلاع دی ہے۔
ایران نے اسرائیل پر بھی لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا ہے۔ اسماعیل بقائی نے کہا کہ طاقت کے استعمال سے ہر سفارتی عمل متاثر ہوتا ہے۔
واضح رہے کہ ایران نے کویت، بحرین اور اردن میں حملوں کو دفاعی ردعمل قرار دیا ہے۔ ایران نے امریکی اڈے پر ایف 35 طیاروں کے ہینگرز اور اردن میں کمانڈ مرکز کو بھی اہم اہداف بتایا ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی امریکا کے جنوبی ایران میں حملوں کے جواب میں کی گئی۔ ایرانی فوج نے خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز کے ذریعے دعویٰ کیا کہ امریکی اڈوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی میڈیا نے ویڈیو جاری کی جس میں مختلف میزائلوں کی لانچنگ دکھائی گئی۔ رپورٹس کے مطابق، قدر، عماد اور خیبر شکن میزائل استعمال کیے گئے۔
ایرانی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ بحرین اور اردن میں امریکی فوجی اڈے نشانہ بنے۔ امریکی حکام نے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کی۔
واضح رہے کہ ایران نے پہلے بھی کہا تھا کہ وہ اپنی سرزمین اور مفادات پر حملوں کا جواب دینے کا حق رکھتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ امریکی کارروائیاں جاری رہیں تو مزید سخت ردعمل آ سکتا ہے۔














