ورم جسم کا قدرتی ردعمل ہے، لیکن دائمی ورم خطرناک ہو سکتا ہے۔ نیند، ورزش اور متوازن غذا سے ورم کی روک تھام ممکن ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز)۔ ورم ہمارے جسم کا قدرتی ردعمل ہے جو بیکٹریا اور وائرس کے خلاف متحرک ہوتا ہے۔ یہ عمل خون کے سفید خلیات سے شروع ہوتا ہے۔ عام طور پر ورم مختصر المدت ہوتا ہے اور جراثیموں کے خاتمے پر ختم ہو جاتا ہے۔
مگر دائمی ورم کئی ماہ یا برسوں تک برقرار رہتا ہے جس سے کینسر، امراض قلب، ذیابیطس اور دیگر امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔ دائمی ورم دل، پھیپھڑوں اور گردوں کو متاثر کرتا ہے اور اکثر تکلیف کا احساس نہیں ہوتا۔
حکام کے مطابق، نیند کی کمی ورم کو بڑھاتی ہے۔ ہر رات کم از کم 7 گھنٹے کی نیند ضروری ہے۔ ماہرین کی رائے میں، سونے کا وقت روزانہ ایک ہونا چاہیے اور سونے سے قبل فون کا استعمال نہ کریں۔
ورزش سے بھی ورم کی روک تھام ممکن ہے۔ محض 20 منٹ کی چہل قدمی ورم کے خلاف ردعمل کو متحرک کرتی ہے۔ ماہرین روزانہ 30 منٹ کی ورزش کا مشورہ دیتے ہیں، مگر 20 منٹ کی چہل قدمی بھی فائدہ مند ہے۔
واضح رہے کہ ریفائن کاربوہائیڈریٹس اور سرخ گوشت کے استعمال سے ورم بڑھتا ہے۔ سبز چائے، سبزیوں اور ہلدی جیسے مصالحے ورم کی روک تھام میں مددگار ہیں۔ تمباکو نوشی سے بچنا بھی ضروری ہے کیونکہ یہ ورم کی سطح کو بڑھاتا ہے۔















