خیبر پختونخوا میں خواجہ سرا افراد کے لیے نئی پالیسی متعارف

خیبر پختونخوا حکومت نے خواجہ سرا افراد کے تحفظ اور خودمختاری کے لیے نئی پالیسی متعارف کرادی ہے، جس میں بحالی مراکز اور معاشی معاونت شامل ہیں۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
خیبر پختونخوا میں خواجہ سرا افراد کے لیے نئی پالیسی متعارف

پشاور: (رائیٹ ناوٴ نیوز) خیبر پختونخوا حکومت نے خواجہ سرا افراد کے تحفظ، فلاح اور معاشی خودمختاری کے لیے نئی جامع پالیسی کا اعلان کردیا ہے۔ اس پالیسی کی بنیاد 2018 کے ٹرانسجینڈر پرسنز ایکٹ پر ہے، جس میں صوبائی سطح پر اضافی اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔

نئی پالیسی کے تحت خواجہ سرا افراد کے لیے صوبے کا پہلا وقف فنڈ قائم کیا جائے گا جو معاشی بااختیاری، ہنر مندی اور بحالی پروگراموں کو مالی معاونت دے گا۔ بحالی مراکز، محفوظ رہائش گاہیں اور کمیونٹی شیلٹر بھی قائم کیے جائیں گے تاکہ تشدد یا بے دخلی کا سامنا کرنے والے افراد کو فوری تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

سماجی بہبود محکمہ کو فوکل ڈیپارٹمنٹ مقرر کیا گیا ہے جو ڈیٹا بیس اور ویلفیئر رجسٹری تیار کرے گا۔ اس نظام کے ذریعے صحت کارڈ، سماجی تحفظ پروگراموں، وظائف اور ہنر مندی اسکیموں تک رسائی آسان بنائی جائے گی۔ ضلعی سطح پر رابطہ کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی جبکہ ہر ضلع میں پولیس کے تحت خواجہ سرا رابطہ ڈیسک قائم کیا جائے گا۔

پالیسی کے مطابق جیلوں اور حراستی مراکز میں خصوصی سیل قائم کیے جائیں گے اور تعلیم کے شعبے میں امتیاز کے بغیر داخلے، وظائف اور علیحدہ ہاسٹلز کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ صحت کے شعبے میں سرکاری اسپتالوں میں ہارمون تھراپی، ذہنی صحت اور ایچ آئی وی علاج کی سہولیات شامل کی جائیں گی۔ لیبر ڈیپارٹمنٹ کو مساوی اجرت اور روزگار کے مواقع یقینی بنانے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں تقریباً 600 خواجہ سرا افراد رجسٹرڈ ہیں جبکہ نادرا کے ریکارڈ میں یہ تعداد تقریباً 170 بتائی گئی ہے۔ حکام نے نئے رجسٹریشن فارم تمام اضلاع کو بھیج دیے ہیں تاکہ ڈیٹا کو مکمل اور معیاری بنایا جا سکے۔ 2018 میں بھی اسی نوعیت کی پالیسی کا اعلان کیا گیا تھا لیکن اس پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو سکا تھا، اس بار عملی اقدامات پر زور دیا گیا ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں