ترکی میں سوشل میڈیا پر کم عمر افراد کے لیے پابندی کی تیاری جاری ہے۔ پارلیمانی رپورٹ میں عمر کی تصدیق اور مواد فلٹرنگ کی سفارشات شامل ہیں۔
انقرہ: (رائیٹ ناوٴ نیوز)
ترکی میں کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا تک رسائی محدود کرنے کی کوششیں شروع ہو گئی ہیں۔ پارلیمانی کمیشن کی رپورٹ میں عمر کی تصدیق اور مواد کی فلٹرنگ کی سفارش کی گئی ہے۔
صدر رجب طیب اردوان کی جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی جلد ہی اس معاملے پر قانون سازی کا ارادہ رکھتی ہے۔ خاندانی و سماجی خدمات کی وزیر ماہنور اوزدمیر گوکتاش نے کہا کہ نابالغ افراد کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کا بل پیش کیا جائے گا۔
رپورٹ میں بچوں سے متعلق مواد کو فوری ہٹانے، مصنوعی ذہانت سے لیس ویڈیو گیمز کی نگرانی، اور کم عمر صارفین کے لیے رات کے اوقات میں انٹرنیٹ محدود کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔
حکمران جماعت کے رکن پارلیمان حارون مرت اوغلو کا کہنا ہے کہ بچوں کو ڈیجیٹل لت سے بچانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ کئی والدین بھی ان خدشات کی تائید کرتے ہیں۔
عالمی سطح پر بھی کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا پر پابندیوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ آسٹریلیا اس نوعیت کی پابندی لگانے والا پہلا ملک بن چکا ہے، جبکہ دیگر ممالک بھی اسی سمت میں پیش رفت کر رہے ہیں۔















