کراچی میں خسرہ کے کیسز میں اضافہ

کراچی میں خسرہ کے کیسز میں تیزی سے اضافہ، ماہرین نے والدین کو خبردار کیا۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) سردی کی آمد کے ساتھ ہی کراچی میں خسرہ کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ شہر کے اسپتالوں میں روزانہ درجنوں بچے خسرہ کی علامات کے ساتھ لائے جا رہے ہیں جن میں بخار، کھانسی، ناک بہنا، سرخ آنکھیں اور جسم پر دھبے شامل ہیں۔

ماہرینِ اطفال نے خبردار کیا ہے کہ خسرہ ایک انتہائی متعدی مرض ہے جو متاثرہ بچے سے دوسروں تک تیزی سے پھیلتا ہے۔ ویکسینیشن کے بغیر یہ بیماری نمونیا، دماغی سوزش، جھٹکوں (ایس ایس پی ای) اور شدید حالات میں موت کا سبب بن سکتی ہے۔

ڈاکٹر لیاقت علی نے بتایا کہ سردی کی شدت خسرہ کے کیسز میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔ ان کے مطابق روزانہ درجنوں بچے خسرہ کی علامات جیسے سرخ آنکھیں، بخار، کھانسی، ناک بند ہونا اور منہ میں زخموں کے ساتھ اسپتال لائے جا رہے ہیں۔ خسرہ زیادہ تر پانچ سال سے کم عمر بچوں میں دیکھا جاتا ہے اور یہ چہرے و جسم پر دھبے بناتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ای پی آئی پروگرام کے تحت نو ماہ اور اٹھارہ ماہ کی عمر میں خسرہ کی ویکسین کی دو خوراکیں مفت دی جاتی ہیں۔ ویکسینیٹڈ بچے بھی خسرہ کا شکار ہو سکتے ہیں لیکن شدت کم ہوتی ہے۔ غیر ویکسینیٹڈ بچوں میں نمونیا، دماغی سوزش اور جھٹکوں کے خطرات زیادہ ہوتے ہیں جبکہ شدید کیسز میں دماغی معذوری (ایس ایس پی ای) ہو سکتی ہے۔

ڈاکٹر لیاقت نے یہ بھی کہا کہ وٹامن اے کی خوراک خسرہ سے متاثرہ بچوں میں موت کے خطرے کو 50 فیصد تک کم کر سکتی ہے۔ متاثرہ بچے کو علیحدہ رکھنا اور بروقت طبی دیکھ بھال بیماری کے پھیلاؤ کو محدود کرنے اور پیچیدگیوں کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں